سعودیہ،پاکستان کے تعلقات خراب ہونےمیں ارطغرل ڈرامے نے کردار ادا کیا:جاوید چودھری


سینئر صحافی اور کالم نگار جاوید چودھری نے اپنے کالم میں لکھا کہ سعودی عرب نے پاکستانی معیشت کو سہارا دینے کے لیے 3 ارب ڈالر پاکستانی سٹیٹ بینک میں رکھوائے جو کہ کشمیر کے حوالے سے دو ٹوک مؤقف اپنانے کے باعث سعودی عرب نے واپس مانگ لیے ہیں جبکہ پاکستانی حکومت نے بے عزتی کے ڈر سے اس خبر کو چھپا لیا ہے، نجی ٹی وی چینل کے پروگرام آن دی فرنٹ میں اینکر کامران شاہد نے کالم سے متعلق سوال کیا تو جاوید چودھری نے مزید انکشافات کر دیئے۔

سعودی عرب نے پاکستان سے ایک ارب ڈالر اچانک واپس کیوں لے لیے؟جاوید چوہدری سے جانیے

Posted by Dunya News on Thursday, August 6, 2020

جاوید چودھری نے بتایا کہ 2018 میں جب پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے ادھار تیل اور ساتھ میں ساڑھے 3 ارب ڈالر ملکی معیشت کی بحالی کے لیے دیئے گئے تھے مگر پھر پے در پے کچھ ایسے واقعات ہوئے جن میں ترکی ، ایران اور ملائیشیا کے واقعات قابل ذکر ہیں۔ جن کے بعد سعودی عرب نے اب اپنی امداد آہستہ آہستہ واپس لینا شروع کر دی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب نے اپنے سارے پیسے واپس مانگ لیے ہیں جس کے تحت پاکستان نے ایک ارب ڈالر کی پہلی قسط جولائی کے آخری ہفتے میں واپس کر دی ہے اور باقی کی رقم عنقریب ہم سعودی عرب کو واپس دیں گے۔

جاوید چودھری نے کہا کہ اس معاملے میں پاکستانی وزارت خارجہ کی نااہلی ہے کہ جب ہم سعودی عرب سے مالی امداد اور سپورٹ حاصل کر رہے تھے تو دوسری جانب ملائیشیا کے ساتھ ہاتھ ملایا گیا جو کہ دوسری او آئی سی بنانا چاہتا ہے۔ تو ایسے وقت میں ہمیں اسے سپورٹ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔

انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ سعودی عرب کے کشیدہ تعلقات پر مبنی 14سو سال پرانی تاریخ ہے اور اگر ہم ایران کی حمایت کریں گے تو سعودی عرب کی ناراضگی لازمی امر ہے۔

جاوید چودھری نے کہا کہ اس میں سب سے اہم کردار ترکی کے ساتھ پاکستانی تعلقات نے ادا کیا انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس سب میں ارطغرل غازی ڈرامے نے بھی بڑا ہی اہم کردار ادا کیا ہے، جس کے باعث سعودی عرب یہ محسوس کر رہا ہےکہ پاکستان جان بوجھ کر یہاں ترکش ماڈل کو اہمیت دے رہا ہے۔

جاوید چودھری نے کہا کہ جب وزیر خارجہ نے ان تینوں مسلم ممالک کو بلا کر وزرائے خارجہ کانفرنس بلانے کی بات کی تو اس بات نے معاملے کو مزید ہوا دے دی جس کے باعث یہ کہنا قبل از وقت نہیں کہ اس جھٹکے کا ذمہ دار دفتر خارجہ اور اس کی ناکام پالیسیاں ہیں۔

  • پاکستانی اتنے منگتے ہیں کہ کسی کو پیسے واپس دینے لگیں تو ماتم شروع کردیتے ہیں۔ او کوئی غیرت کرو۔ کوئی برے وقت میں مدد کرتا ہے تو اس کو جلدی سے جلدی پیسے واپس کردیتے ہیں

  • واہ! کیا جواز پیش کیا ھے تعلقات خراب ھونے کا ۔۔ پاکستان ھندوستان کے تعلقات تو نھیں ٹوٹے اتنے ظلم کے باوجود آ ج بھی واھگہ کھلا ھوا ھے ٹریڈ کے لیے ۔۔اج بھی فضائی حدود کھلی ھے ۔۔ ایک ارطغرل ان سب کو ھضم نھیں ۔۔ چودھری صاحب کو کسی ارطغرل کی ستای ھوی پاکستانی اداکارہ نے خوش کردیا ھوگا ۔۔۔

  • سعودیوں کو کل پاکستان کی ضرورت پڑے گی اور وہ پاکستان کا دورا بھی کریں گے اور مدد بھی مانگیں گے ابھی زرا کرونا کی وجہ سے حالات ٹھنڈے ہیں جیسے ہی ماحول گرم ہوگا سعودیوں کو پاکستان اچھی طرح یاد آئے گا۔ سعودی اگر یہ سمجھتے ہیں امریکی اسلحہ جس کو چلانے والے بھی امریکی ہوں اس سے انکا دفاع ممکن ہے باقی رہی بات ملائیشیا ترکی اتحاد کی جب ایک بڑی اسلامی تنظیم امریکہ کے کہنے پر کچھ نہ کررہی ہو تو دوسروں کا حق بنتا ہے وہ اپنے لیے نئی اتحادی تنظیم بنا لیں ۔ جو انکے لیے اواز بلند کرے ۔ اور رہی بات ترکش ڈرامہ کی اگر ملک ڈراموں سے ڈر جائیں تو پھر انکو یہ سوچنا چاہئے کہ ان میں کمزوری کہاں پر ہے ۔

  • Saudi Arabia wants to play masters not friends. They did not help us as a brotherly country but rather with a political agenda. They dictated us on the Malaysia summit and as a consequence, not only our prime minister paid a political price but Pakistan itself was put in a bad diplomatic situation. Saudis had then promised in return to arrange an OIC meeting on Kashmir but they turned their backs later on. Secondly, they want our foreign policy to blindly follow theirs where they want us to distance from Iran, Turkey, Qatar, and Malaysia.

  • سعودیوں کے پاس اتنا فضول وقت نھیں کی وہ ارطغرل کیوجہ سے تعلق خراب کریں ۔۔ارطغرل سعودیوں میں پاکستان سے زیادہ مقبول ھے ۔ خدا کا خوف کرو چودھری صاحب!

  • پاکستان کو آجکل امریکہ کی پروا نہیں تو سعودی کس کھیت کی مولی ہے؟

    پرو امریکہ اور پرو چین بلاک بنتے جا رہے ہیں۔

  • ابے چوتیے چول جاوید گٹر
    تو کیا چاہتا ہے کہ پاکستان ہمیشہ عربوں کا بغل بچہ یا غلام بن کر
    رہے ؟
    اس ملک میں جب تک تم جیسے گھٹیا چوتیا موجود ہیں کبھی نہیں
    چاہیں گے کہ ہم آزاد ہوں
    اس ملک اور اس کے عوام کو آزاد ہونے دو اور انہیں بڑا ہونے دو

  • اچھا ہے سعودی عرب سے جان چھوٹ جائے، یہ کمینے کبھی بھی کشمیر کے معاملے میں پاکستان کی حمایت نہیں کرتے. جبکہ ترکی اور ملائشیا کھل کر کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہیں.

  • Jawaid sb Jati umrah or Saudi Arab ke namak ko halaal krhe hen. Werna sb ko pta hy ke KSA ne Pakistan me kitna invest kia or India me kitna kia. Aaj tk unko hamari fauj ki zrurat jitni pari hy utni kbhi ksi ko nhi pari. Mgr kashmir ke mamlay me chupki. Bht hogya dramaybazi

  • سعودی عرب خواہ مخواہ بات کا بتنگڑ بنا رہا ھے پاکستان پر گزشتہ 40سالوں سے چور خاندان ڈاکوؤں کا راج تھا جن میں کوئی لیڈرشپ کوالٹی نہیں تھی جو کہ تمام کہ تمام چوروں کا ٹولہ تھا جنہوں نے اس ملک کی عوام کی دولت کو لوٹ کر دوسرے ممالک میں انویسٹ کی
    حکمرانوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اس قوم کی غیرت کو بھی دوسرے ممالک میں گروی رکھوا دی اور پاکستان کے میڈیا کے کرپٹ صحافیوں کے ٹولے نے گزشتہ 40 سالوں کے کرپٹ حکمرانوں کی خوب حوصلہ افزائی کی اور کرپٹ حرام خوروں صحافیوں نے بھی حکومتوں کو بلیک میل کر کے خوب اپنی جیبیں بھریں۔ کرپٹ حکمرانوں کی آپنی کرپشن کی وجہ سے بھی غیرت مر گئ اور ملک کو میں ڈوبو دیا۔ اس صورتحال میں گزشتہ دور کے بیغرت حکمرانون میں اپنی خارجہ پالیسی دوسرے ممالک کے حوالے کر دی اور پوری قوم کو غلام بنا دیا۔
    الحمدللہ آج پاکستان کے پاس ایک غیرت مند اور دیانتدار لیڈرشپ کی قیادت اس ملک اور عوام کو میئسر ھے اور اللّٰہ سبحان وتعالی کے فضل و کرم سے یہ ملک اور عوام اپنی خارجہ پالیسی کو ملک اور عوام کے مفادات کی بہتری اور خطے میں امن و امان بنانے کے لیئے بنائے گی۔ انشاء اللہ

    • ان غلام صحافیوں کے ٹولے میں بھی غیرت نام کا مادہ ختم ہو گیا ھے کیونکہ یہ بیغرت بیشرم صحافیوں کا ٹولہ گزشتہ 40 سالوں سے حرام خور حکمرانوں کی چمچہ گیری اور کرپشن میں برابر کے پارٹنر تھے اور آج بھی ان کے ضمیر اور روحیں اور کرپٹ حکمرانوں کے لئے تڑپ رہی ہیںِ۔ گزشتہ 40 سالوں کے حکمرانوں میں کوئی لیڈر شپ کوالٹی نہیں تھی وہ تمام کے تمام چور اور غلام ذہنیت کے حامل نیچلے درجے کے لوگ تھے جو کہ صرف اور صرف اپنے ذاتی مفادات کے لئے کام کرتے ہیں اور بیغرتی کی زندہ گزارنا پسند کرتے ہیں جینئں لیڈرشپ کبھی نتائج کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ وہ جو ملک اور عوام کے مفاد ہو بس اس کا فیصلہ کر لیتے ہیں بائی برتھ لیڈرشپ کو کبھی موت کا یا دنیا کا خوف نہیں ہوتا اورجینین لیڈر شپ نتائج کے پرواہ کئے بغیر خلوصِ نیت سے ملک اور اپنی عوام کے لیئے کوششیں کرتا ھے جبکہ بیغرت بیشرم لوگوں کا ٹولہ خواہ وہ کسی بھی طبقہ سے ہو بیغرت ہی ہوتا ھے۔
      پاکستان کے میڈیا میں بھی بیغرتوں اور بیشرموں کی کمی نہیں ھے ان میں سے ایک یہ چول جیدہ جیرا بلیڈ ھے

  • صرف جاوید چوہدری نہیں آ پکی اس دلیل کو پڑھ کے یہی کہہ سکتاہوں کہ میراثی بیچاروں کا تو صرف نام ہی بدنام ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >