یونین کے دباؤ پر ریلوے کی پہلی خاتون اسٹیشن منیجر چند گھنٹے بعد عہدے سے فارغ

یونین کے دباؤ پر ریلوے کی پہلی خاتون اسٹیشن منیجر چند گھنٹے بعد عہدے سے فارغ

سینٹرل سپیریئر سروس کے ریلوے گروپ کی ایک خاتون افسر لاہور اسٹیشن منیجر کو ایک ہی دن میں عہدہ ملا اور کچھ ہی گھنٹوں بعد ہی عہدے سے ہٹادیا گیا، وجہ بنی اسٹیشن ماسٹرز کی طاقتور یونین، جو مبینہ طور پر خاتون تقرر کے سخت خلاف تھے اورمزاحمت کی تھی، جس پر یونین کے دباؤ میں پی آر کے لاہور ڈویژن میں اسسٹنٹ ٹرانسپورٹ آفیسر 1 (اے ٹی او 1) کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ اسٹیڈا منیجر کا چارج سیدہ مرزیہ زہرا کے سپرد کرنے کا نوٹیفکیشن فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔

محکمے کے سرکاری ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز پی آر انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا جس میں زہرہ کو لاہور اسٹیشن منیجر کا چارج سونپا گیا، اس پر اسٹیشن ماسٹرز ایسوسی ایشن نے اسٹیشن منیجر کی نشست پر سی ایس ایس آفیسر کے تقرر کے فیصلے پر احتجاج کیاگیا۔

ملک کے نمبر 1 ریلوے اسٹیشن، لاہور اسٹیشن کے منیجر(بی ایس 1) کا عہدہ اس وقت خالی ہوا تھا جب پی آر کے لاہور ڈویژن کی انتظامیہ نے یونس بھٹی کو عہدے سے ہٹا دیا تھا اور مرزیہ زہرہ کو ہدایت کی کہ وہ اگلے احکامات تک اس کی دیکھ بھال کریں، چونکہ پی آر کے پاس اسٹیشن منیجر کے صرف دو عہدے ہیں، ایک لاہور اور دوسرا کراچی میں ہے۔

سی ایس ایس کے ریلوے گروپ کے 44 ویں کامن سے تعلق رکھنے والی سیدہ مرزیہ زہرا نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ پی آر انتظامیہ نے جمعہ کی شام ان کے تقرر کا نوٹیفکیشن واپس لے لیا لیکن وہ قانون کے تحت پی آر لاہور ڈویژن کے اے ٹی او-1 کی حیثیت سے اسٹیشن منیجر کے دفتر کی نگرانی جاری رکھیں گی،انہوں نے کہا کہ یعقوب صاحب کو لاہور اسٹیشن منیجر مقرر کیا گیا ہے، اگرچہ انہوں نے کام شروع کردیا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں ان کی نگرانی نہیں کرسکتی ہوں۔

دوسری طرف یونین نے سیدہ مرزیہ زہرہ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گریڈ 17 کا افسر گریڈ 17 کے افسر کی نگرانی کیسے کرسکتا ہے، پی آر انتظامیہ کو غیر دانشمندانہ فیصلے کرنے کی عادت ہے، سمارس یونین کے صدر سجاد گجر نے بتایا کہ اسٹیشن ماسٹر کیڈر کے اس اہم عہدے پر پی آر کی جانب سے گارڈ کے تقرر کے بعد 2010 میں ہم نے ملک گیر ہڑتال شروع کی تھی۔

انہوں نے کہا کہ یونین کا موقف ہے کہ اسٹیشن منیجر (لاہور اور کراچی) کے دو عہدوں کو گریڈ 16 کے سینئر ترین ترین اسٹیشن ماسٹر کو پُر کرنا چاہیے، لیکن انہوں نے حیران کن طور پر یونس بھٹی کو عہدے سے ہٹا دیا اور پھر سی ایس ایس آفیسر کو عہدہ تفویض کیا۔

  • Union ka pressure tha ya nahin yeh baat tao confirm nahin ki ja sakti lakin yeh zaror hai keh station manager ki nauter of job buhat sensitive hoti hai… aik inexperience khatoon ko yeh job dena khaternaaq decision tha…. zyda ter station managers neechay say oper atay hain

  • بیوروکریسی نے ریلوے کو تباہ کیا۔ اور سٹیشن منجر کا حق سی ایس پی کو دینا غلت اور غیرآئینی اقدام ہے۔ چاہے کوئی بھی ہو فلُ وقت یہ عہدہ ایس ایم کے زریعے ترقی پانے والوں کا حق اور رول ہے۔
    ایک ATO کا کوئی رائٹ نہی۔

    برصغیر میں استاد، ملووی اور بیوروکریٹ کو انگریز تباہ کر گیا۔ اور یہ سی ایس پی افسران ریلوے ملازمین کو زہنی کوفت اور مختلف طریقے سے تکالیف دیتے ہیں۔ ساتھ میں کلرک مافیا بھی انہی سی ایس پی افسران کی پشت پنائی کے زریعے ملازمین اور ایس ایم صاحبان سے رشوت لی جاتی ہے۔

    • جو بھی ہوا افسوسناک ہے۔۔۔۔۔یہ ملک ترقی نہیں کر سکتا اگر حالات انہی مٹھی بھرافسران کے ایما پر چلتے رہے۔۔۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >