کپتان قومی ٹیم اظہر علی کا اپنی کپتانی کو ہار کی وجہ تسلیم کرنے سے انکار

مانچسٹر ٹیسٹ میں انگلینڈ کے ہاتھوں پاکستان کی 3 وکٹ سے شکست کے بعد پاکستانی ٹیم انتظامیہ کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔ اظہر علی نے ہار کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ کپتانی دیکھنے میں آسان لگتی ہے ہمیشہ کپتانی پر الزام نہیں دھرنا چاہیے، میں ذمہ داری لینے کو تیار ہوں، مگر میری توجہ سیریز پر مرکوز ہے۔

کپتان اظہر علی نے کہا کہ ہمیں اتنا ٹارگٹ دینے کے بعد جیتا چاہئے تھا جو کہ ہم نہیں جیت سکے، سوشل میڈیا کو چھوڑ دیں اس پر بہت کچھ آتا ہے، میڈیا کانفرنس میں اظہر سوال ہوا کہ کیا آپ نے خراب کپتانی کی یا ٹیم اچھا نہیں کھیلی؟ کپتان قومی کرکٹ ٹیسٹ ٹیم اظہر علی نے کہا کہ بطور کپتان وہ اس ہار کی پوری ذمہ داری قبول کرتے ہیں مگر ان کی کپتانی کو ہار کی وجہ کہنا درست نہیں۔

اظہر علی نے کہا کہ بطور ٹیم ہم اچھا نہیں کھیلے،10سالہ تجربے سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے، بیٹنگ کرتے ہوئے کپتانی اور کپتانی کرتے ہوئے بیٹنگ کا نہیں سوچتا، اس لیے دونوں ایک دوسرے کو متاثر نہیں کر رہیں۔

کپتان اظہر علی نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ دوسری اننگز میں پاکستان بہتر بیٹنگ کرتے ہوئے 350 کے قریب ہدف دے سکتا تھا، ہم بڑا سکور کرتے تو انگلینڈ کو آؤٹ کلاس کردیتے، بہرحال کنڈیشنز کو دیکھتے ہوئے 277 بھی آسان ہدف نہیں تھا لیکن انگلش ٹیم کی چھٹی وکٹ کیلئے شراکت میں چیزیں مختلف نظر آئیں، انھوں نے جوابی حملہ کیا اور میچ ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔

اظہر نے کہا کہ شکست پر مایوسی ہوئی لیکن یہ ایک شاندار ٹیسٹ میچ تھا، میدان میں کراؤڈ ہوتا تو بڑا اچھا لگتا لیکن گھروں میں بیٹھے شائقین کو اچھی تفریح حاصل ہوئی ہوگی۔

انہوں نے کہا پہلی اننگز میں شان مسعود نے اچھی بیٹنگ کی۔ چوتھے روز پچ اچانک آسان ہوگئی، ہم ریورس سوئنگ نہ ہونے پر حیران ہیں، بہرحال جب 5 وکٹیں حاصل کیں تو حالات حق میں جا رہے تھے مگر پھر جوز بٹلر اور کرس ووکس کی شراکت نے میچ کا پانسہ پلٹ دیا۔

شاداب خان کو بطور آل راؤنڈر کھلانے کا فیصلہ کیا، چوتھے روز پیسرز کو پچ سے تھوڑی مدد مل رہی تھی، اس لیے شاداب سے زیادہ بولنگ نہیں کرائی۔ انہوں نے کہا کہ چھٹا بیٹسمین نہ کھلانے سمیت ٹیم سلیکشن میں کوئی خرابی نہیں تھی، شاداب کی بیٹنگ سے پہلی اننگز میں ٹیم کو فائدہ پہنچا۔

اپنے تجربے کو سراہتے ہوئے کپتان اظہر علی نے کہا کہ دس سال کرکٹ کھیلنے کے بعد اب اتنا ضرور پتہ چل گیا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔

  • اپنے تجربے کو سراہتے ہوئے کپتان اظہر علی نے کہا کہ دس سال کرکٹ کھیلنے کے بعد اب اتنا ضرور پتہ چل گیا ہے کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں۔
    Joke of the century.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >