ترک تعلیمی اداروں میں مقبوضہ کشمیر کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگیں

ترک تعلیمی اداروں میں مقبوضہ کشمیر کے حق میں آوازیں بلند ہونے لگیں، بھارت تشویش میں مبتلا

ترک صدر رجب طیب ایردوان ان پہلے عالمی رہنماؤں میں سے ہیں جنہوں نے مقبوضہ کشمیر سے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی تھی۔ اب چونکہ ترکی اور پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر بھارت کیخلاف اتحاد کرلیا ہے اس لیے ترک یونیورسٹیز میں کشمیر کی آزادی کیلئے آوازیں اٹھنے لگیں ہیں۔

بھارتی سیکورٹی ایجنسیز کے مطابق پاک ترک دیرینہ دوستانہ تعلقات کی وجہ سے اب ترکی کی یونیورسٹیز میں بھارت مخالف اور کشمیر کی آزادی کیلئے تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ ترکی گزشتہ برس ستمبر میں مقبوضہ کشمیر کے معاملے کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی اٹھا چکا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ تقریبات ترکی میں پاکستانی سفارتخانے کے تعاون سے منعقد کی جارہی ہیں جبکہ پاکستان کے تعاون سے چلنے والی این جی اوز بھی ان تقریبات میں پیش پیش ہیں۔

5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی آزادانہ حیثیت کے خاتمے کے بھارت کے غیر قانونی اقدام کے بعد سے ترکی کی یونیورسٹیز میں 30 سے زائد سیمینارز منعقد کئے جا چکے ہیں۔ ان میں سے کئی تقریبات میں پاکستان کی خصوصی شخصیات ورلڈ کشمیر فورم کے سیکرٹری جنرل غلام نبی فائی اور ترکی میں پاکستان کے سفیر سجاد قاضی بھی شریک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ ان میں سے کئی سیمینارز میں آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود بھی کئی تقریبات میں شرکت کر چکے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >