چلغوزے کی برآمد کی آڑ میں کروڑوں ڈالر کے بے نامی اکاؤنٹس کا بڑا سکینڈل پکڑا گیا

ایف بی آر کی جانب سے چلغوزے کی برآمد کی آڑ میں بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے کروڑوں ڈالر کی رقوم کی منتقلی کا بڑا سکینڈل پکڑا گیا، ایف بی آر کے مطابق حسنین ایکسپورٹس نے جرمنی میں 5 کروڑ ڈالر کے چلغوزے برآمد کیے لیکن صرف چار لاکھ ڈالر کی ادائیگی ظاہر کی، حسنین ایکسپورٹس کی جانب سے برآمدی سامان کی بڑی رقم خفیہ بیرونی اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کی گئی۔

ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق حسنین ایکسپورٹس کی جانب سے سٹیٹ بینک اور دیگر بینکوں کے ریکارڈ کے مطابق باقی ماندہ رقم ظاہر نہیں کی گئی، ایف بی آر نے جب کمپنی کے مالک سے رابطہ کیا تو بے نامی اکاؤنٹ کا انکشاف ہوا، کمپنی کے سول پروپرایئٹر سلطان محمود کی جانب سے چلغوزے کی برآمد کے کاروبار سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے کے ذرائع کے مطابق ایف بی آر کی جانب سے سامنے آنے والے بے نامی اکاؤنٹ کے مالک سلطان محمود بیس سال سے کاروبار کرنے والے ادارے میں کام کرتا رہا ہے لیکن تاحال دو مرلے کے مکان میں رہائش پذیر ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بے نامی اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم کی منتقلی میں وہ ملوث نہیں ہے۔

ایف بی آر کے بے نامی زون ٹو نے متعلقہ بے نامی اکاؤنٹ کا ریفرنس تیار کرکے چھ اگست کو ایڈجوڈیکیشن اتھارٹی کو بجھوا دیا ہے، اور ایف بی آر نے ابتدائی کارروائی کرتے ہوئے کمپنی کے اصل مالکان کی قصور اور لاہور میں موجود زرعی زمین کو قبضے میں لے لیا ہے، تاہم ایف بی آر کی جانب سے مزید تفتیش جاری ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >