گرفتار ن لیگی کارکنان کوجسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا

نیب آفس کے باہر ہنگامہ,ن لیگ کے کارکنان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد۔۔ گرفتار ن لیگی کارکنان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔

مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی پیشی پرنیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی پرلاہور کی مقامی عدالت نے لیگی کارکنان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کر دی ہے،ہنگامہ آرائی میں ملوث گرفتار 58 کارکنان کو عدالت میں پیش کیا اور تفتیشی افسر نے گرفتار افراد کے 8 دن کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان سے تفتیش اور برآمدگی کے لیے جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے،عدالت نے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کرتے ہوئے ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ کے احکامات جاری کر دیئے۔

نون لیگی کارکنوں کو ہتھکڑیوں میں ضلع کچہری لایا گیا تو وہ ہاتھوں سے وکٹری کا نشان بنا رہے تھے۔گرفتار کارکنوں کی ضمانت کے لیے نون لیگ کی لیگل ٹیم بھی عدالت میں موجود تھی۔

خیال رہے کہ نیب آفس کے باہر ہنگامہ آرائی پر مریم اور ان کے شوہر سمیت 188 لیگی رہنماؤں کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا، پولیس کے مطابق واقعے پر نیب حکام نے لیگی رہنماؤں کے خلاف مقدمے کی درخواست دی تھی جس پر تھانہ چوہنگ میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

مقدمے میں مریم نواز، ان کے شوہر محمد صفدر سمیت رانا ثنا اللہ، پرویز رشید، زبیر محمود، جاوید لطیف، دانیال عزیز اور پرویز ملک کو بھی ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا،مقدمے میں 300 نامعلوم افراد سمیت 188 لیگی رہنماؤں اور کارکنان کو بھی نامزد کیا گیا، کار سرکار میں مداخلت اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کی دفعات شامل کی گئی ہیں،ایف آئی آر میں بتایا گیا ہےکہ پتھراؤ سے 13 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان مسلم لیگ نون کی مرکزی رہنما اور نائب صدر مریم نواز کی اراضی کیس میں نیب پیشی کے موقع پر کارکنوں اور پولیس کے درمیان شدید ہنگامہ ہو ا تھا۔

پتھرائو، لاٹھی چارج، شیلنگ سے علاقہ میدان جنگ بن گیا تھا، نیب آفس کے شیشے ٹوٹ گئے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >