” کراچی اس وقت ایک یتیم شہر بنا ہوا ہے “

سپریم کورٹ کا این ڈی ایم اے کو کراچی کے نالوں کی صفائی،تجاوزات ختم کرنے اور تین ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نےحاجی کیمو گوٹھ تجاوزات سے متعلق کیس سمیت مختلف مقدمات پر سماعت کی،کراچی میں غیرقانونی تعمیرات،تجاوزات اور نالوں کی صفائی سے متعلق کیس میں چیف جسٹس گلزار احمد نے کئی اہم احکامات صادر کردیئے۔

کراچی میں جگہ جگہ غلاظت، تجاوزات اور ابلتے نالوں پر عدالت عظمی نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ یہاں مافیا آپریٹ کر رہے ہیں،افسر شاہی سب ملے ہوئے ہیں۔۔ قانون کی عمل داری نہیں، چیف جسٹس نے کہا کروڑوں روپے کمائے جارہے ہیں۔۔ غیرقانونی دستاویزات رجسٹرڈ کرلی جاتی ہیں۔۔ مرنے کے بعد بچوں کو پتا چلے گا پراپرٹی پر قبضہ ہوگیا

کمشنرکراچی کی رپورٹ پرعدالت نے اظہارعدم اطمینان کیا اور نالوں سے تجاوزات سے فوری خاتمے کا حکم دے دیا،سپریم کورٹ نے این ڈی ایم اے کو کراچی میں نالوں کی صفائی کا حکم دے دیا۔۔ تجاوزات کے خاتمے کا اختیار بھی این ڈی ایم اے کے سپرد کردیا۔۔ تین ماہ کی مہلت دے دیتے ہوئے سندھ حکومت کو متاثرین کی بحالی کی ہدایت کردی۔

چیف جسٹس کے ریمارکس دیئے کہ این ڈی ایم اے کو مزید ذمہ داریاں دیں گے، عدالت میں خاتون نے دہائی دی کہ کمشنر کراچی مافیا کو سپورٹ کر رہے ہیں، جس پر چیف جسٹس نے جواب دیا کہ ثابت ہوگیا تو کمشنر فارغ ہوجائیں گے۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے نالوں کی صفائی کے ساتھ سندھ حکومت کو متاثرین کی بحالی اور انہیں متبادل دینے، نالوں کی صفائی پر این ڈی ایم اے کارروائی کرکے جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

غیر قانونی تعمیرات اور تجاوزات کیس میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کورونا کی صورتحال میں سب سے پہلے کراچی رجسٹرار آفس کھولا گیا،جسے مافیاآپریٹ کررہےہیں، یہاں قانون کی عملداری نہیں، حکومتی مشینری ملوث ہیں،افسرشاہی سب ملےہوئےہیں،غیرقانونی دستاویزات کو رجسٹرڈ کرلیا جاتا ہے،سب رجسٹرارآفس میں پیسہ چلتا ہے،معلوم نہیں پراپرٹی کس کے نام پر رجسٹر ہوگئی۔

عدالت نے حاجی کیمو گوٹھ کےنالوں سے بھی تجاوزات کاخاتمے اور متاثرین کی بحالی کا حکم دے دیا، عدالت میں کیمو گوٹھ کی رہائشی خاتون نے کہا کہ کمشنرکراچی مافیاکوسپورٹ کررہےہیں

سپریم کورٹ کا برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ آپ نے کراچی کو گوٹھ بنا دیا،شہر غلاظت اور گٹر کے پانی سے بھرا ہوا ہے، سندھ حکومت مکمل ناکام ہوچکی ہے،مکمل انارکی ہے۔کون صوبے کو ٹھیک کرے گا؟ کیا وفاق کو کہیں؟ پانی بجلی کے لیے بھی لوگوں کو عدالت آنا پڑتا ہے۔۔ایڈووکیٹ جنرل کی سرزنش کردتے ہوئے کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کیا ہوتی ہے؟

چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ میں تمام منصوبے کرپشن کی نذر ہوگئے،لاڑکانہ۔ تھرپارکر،سکھر میں تمام منصوبے ناکام ہوگئے،کہا چالیس سال سے لوٹا جارہا ہے۔۔ عوام کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، جسٹس اعجاز الحسن نے استفسار کیا کہ جس کی لاٹھی اس کی بھینس، سندھ میں کیا چل رہا ہے۔۔ کیا اس طرح میگا سٹی چلتے ہیں؟

اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت میں جواب میں کہا کہ کراچی اس وقت ایک یتیم شہر بنا ہوا ہے ۔ وفاقی حکومت کراچی کو بچانے کیلیے مختلف قانونی اور آئینی آپشن سوچ رہی ہے، وزیراعظم سے بات ہوئی ہے، وفاق کراچی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہتا،شہر کی تباہی دیکھتے ہوئے مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔۔

عدالت نے کہا آپ کے پاس اختیارات ہیں کام کیوں نہیں کرتے؟ کیا صفائی کے لیے بھی عدالتی حکم کا انتظار کریں گے؟

  • CJ sahab app be News main aanay kay leay srif battain kertay rehatay hain app ko sub pata ha app saza tu detay ne hu. Kuch ko dismisse kro oor kuch ko jail bhejho Ager app ko Karachi ke itni fiker ha.
    Topi drama ne cheef sahab. Yeah Public ha yeah sub janti ha

  • CJ sahib you have the authority to correct the problems and dismiss many high officials for their inability to function then why are’nt you doing it?? Just making statement is not enough otherwise you are equally responsible for the mess. Please use your authority and correct many problems that the Sindh Government is having .. the reason being they are corrupt and incompetent people who are running the government on the behest of the most corrupt person and so called leader Mr. 10%.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >