مشترکہ مفادات کونسل نے متبادل ذرائع سے بجلی پیدا کرنےکی منظوری دےدی

مشترکہ مفادات کونسل سے متبادل توانائی پالیسی کی منظوری کے تحت بجلی منصوبے اب مسابقتی بولی پر لگیں گے، عمر ایوب

وفاقی وزیر برائے پٹرولیم اور توانائی عمر ایوب کا اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل نے متبادل توانائی کی پالیسی کی منظوری دے دی ہے، پالیسی کی منظوری کے بعد اب بجلی کے منصوبے مسابقتی بولی پر لگیں گے۔

وفاقی وزیر کا پریس کانفرنس سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 2025 تک قابل تجدید توانائی کاحصہ مجموعی بجلی پیداوار میں 20 فیصد تک لائیں گے۔ 2030 تک ان سستے ذرائع سے بجلی کا حصہ 30 فیصد تک لایا جائے گا، ہم 2030 تک تھر سمیت اندرونی ذرائع سورج، ہوا اور دیگر ذرائع سے 60 فیصدتک سستی بجلی پیدا کر کے صارفین کو فائدہ پہنچائیں گے۔

عمر ایوب نے کہا کہ ہم اس وقت زیادہ تر بجلی درآمدی وسائل سے پیدا کرنے پر مجبور ہیں لیکن قابل تجدید توانائی سے گھریلو صارفین کو بڑا ریلیف دینے جا رہے ہیں، ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے لیے پاکستانی انجینئرز نے آلات بنانے کا کام شروع کر دیا ہے، اس کے علاوہ تھر کا کوئلہ استعمال کر کے مجموعی پیداوار کی دس فیصد بجلی پیدا کریں گے۔

اس موقع پر پریس کانفرنس میں عمر ایوب کے ساتھ موجود ندیم بابر کا کہنا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل سے منظوری کے تحت ونڈ ٹربائنز اور سولر پینل کی تیاری کے لیے مقامی سطح پر کارخانے لگائے جائیں گے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >