80ہزار اموات:امپیریل کالج کی غیرمصدقہ تحقیق، پاکستانی میڈیا،اپوزیشن اور اسد عمر

امپیریل کالج لندن نے کورونا وائرس کے دوران پاکستان کے حوالے سے ایک ریسرچ شائع کی جس میں پاکستان میں ممکنہ کیسز اور ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق اعدادو شمار پیش کیے گئے، اس ریسرچ کے بعد نہ صرف پاکستانی میڈیا بلکہ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی حکومت کی لاک ڈاؤن ختم کرنے کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔

امپیریل کالج نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ 10 اگست پاکستان میں کورونا وائرس کا سب سے خطرناک ترین دن ہوگا اور  پاکستان میں 78 ہزار سے زائد اموات ہوسکتی ہیں، اور لاک ڈاؤ ن نہ کیا گیا تو کیسز کی تعداد لاکھوں میں پہنچ سکتی ہے، اس ریسرچ پر سیاستدانوں نے اپنی سیاست چمکائی اور اینکرز نے اس ریسرچ کو خوب بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔

وفاقی وزیر پلاننگ اسد عمر نے اس ریسرچ کے حوالے سے اسمبلی میں اپنی ایک تقریر میں کہا کہ ہم گوروں کی ذہنی غلامی نہیں کرتے کہ ایک ریسرچ شائع ہوگئی تو یہاں سب صبح سے شام تک اس کو لے کر چل رہے ہیں۔

فیس بک پر اپنی ایک پوسٹ میں اسد عمر نے اس ساری صورتحال سے متعلق ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں حقائق سامنے لائے گئے اور بتایا گیا کہ پاکستان میں 10 اگست کو کورونا وائرس سے صرف 15 افراد جاں بحق ہوئے ہیں اور ہمیں مزید احتیا ط کرنی ہیں اور وبا سے بچاؤ کیلئے جو احتیاطی تدابیر ہم نے پہلے اختیار کیں ان پر مزید سختی سے عمل درآمد کیا جانا ضروری ہے۔

اسد عمر کی اس پوسٹ پر سوشل میڈیا صارف زین عترت نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ مغربی ماہرین بغیر زمینی حقائق کو جانے اپنے پاس دستیاب سطحی ڈیٹا کی بنیاد پر تیسری دنیا کے ممالک بارے اپنی قیاس آرائیاں شائع کردیتے ہیں اور ہم لکیر کے فقیر بن کر اسے من و عن سچ مان لیتے ہیں، ایسی ہی مثال اقوام متحدہ کی حال ہی میں شائع کی گئی ایک تحقیق کی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان میں صرف ایک فیصد نوجوان لڑکیوں کی شادی ان کی اپنی مرضی سے ہوتی ہے ، اور ظاہر ہے یہ اعداد و شمار پاکستان تو دور سعودی عرب اور ایران جیسے ممالک میں بھی سچ ہونا محال ہے۔

 80ہزار اموات:امپیریل کالج کی غیرمصدقہ تحقیق، پاکستانی میڈیا،اپوزیشن اور اسد عمر

زین عترت نے مزید کہا کہ صرف ایسی تحقیقات ہی اہمیت رکھتی ہیں جن کیلئے کوئی معتبر ادارہ مکمل زمینی حقائق سے قریب تر لوکل ڈیٹا حاصل  کرکے اسے جانچے ، دور بیٹھے مغربی ماہرین کے کمزور ڈیٹا کی بنیاد پر ایسے ہی بیہودہ نتائج سامنے آتے ہیں اور ان کی ایسی ریسرچ کو من و عن تسلیم کرنا واقعی بقول اسد عمر گورے کی غلامی ہی ہے اس کی بجائے مقامی سطح پر تحقیق کی روایت ڈالی جانی چاہیے، ہم اگر خود کو ہمیشہ ان ہی کی نظر سے دیکھتے رہیں گے تو یہ بے شک کبھی بھی اچھا منظر نہیں ہوگا۔

  • Nadeen malik was elated, predicting that PTI government wont survive in the pandemic and kept taunting government officials and efforts.
    Today, he must be the most disappointed person in the media along with a few fake liberal who had similar hopes. Shame on him and others who have used pandemic for their personal political agenda and for hatred.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >