کراچی کے مسائل کا واحد حل فنانشل ایمرجنسی ہے،سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان

کراچی کے مسائل کا واحد حل فنانشل ایمرجنسی ہے،سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان

کراچی میں تجاوزات، نالوں کی صفائی سمیت دیگر مسائل کے حوالے سے چیف جسٹس کے ریمارکس پر نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان کامران خان نے  پاکستان کے سینئرقانون دان اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان سے گفتگو کی۔

 سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا میں خود کراچی کا رہنے والا ہوں، انیس سو اکیاون سے اب تک کراچی کو دیکھ رہاہوں،کراچی کو تباہ ہوتے دیکھا ہے،کس طرح تجاوزات آئی ہیں، غلط طریقے سے عمارتیں بنیں، پیسوں کی ہیرا پھیری دیکھی، جب تک کرپشن ختم نہیں ہوگی شہر قائد  ایسا ہی رہے گا۔

کامران خان نے سوال کیا کہ یہ شہر پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیتا اس لئے ان کی کوئی فرنچائز نہیں ہے، اس بار پی ٹی آئی کو ووٹ دیا، ایم کیو ایم کو دیا،اسلئے پیپلز پارٹی سوچتی ہے کہ جب ہمیں ووٹ ہی نہیں ملتا تو ہم کیا کریں، اس مسئلے کو حل کیا ہے؟

سندھ حکومت بالکل ناکام ہوچکی ہے! سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک بار پھر برملا اظہار!

سندھ حکومت بالکل ناکام ہوچکی ہے!سپریم کورٹ آف پاکستان کا ایک بار پھر برملا اظہار!صوبائی حکومت نے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا!کراچی میں روڈ نہیں بجلی نہیں پانی نہیں!سپریم کورٹ نے کراچی کی صورتحال تشویشناک قرار دی!تمام برساتی نالوں کی صفائی این ڈی ایم اے کے سپرد!وفاقی حکومت نے کراچی کا حل ڈھونڈھ لیا ہے !اٹارنی جنرل خالد جاوید کی سپریم کورٹ کو یقین دہانی!وزیر اعظم کلیدی فیصلوں کے آخری مرحلے میں ہیں!

Posted by Kamran Khan on Wednesday, August 12, 2020

کامران خان کے سوال پر سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ اس شہر سے لوگ کما تو لیتے ہیں،لیکن پیسہ لگانا نہیں چاہتے، یہی کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، آئین کی شق 149اس مسئلے کا  حل نہیں، اس کا حل فنانشل ایمرجنسی ہے، کیونکہ اس شہر سے پچاس فیصد سے زیادہ کمائی ہوتی ہے، کسٹم ڈیوٹی سے پیسے نکلتے اور دیگر ٹیکسز سے پیسے نکلتے ہیں۔

جو وفاقی حکومت کماتی ہے اور اس شہر کو بہت کم پیسہ دیا جاتا ہے جو کام نہیں آتا، جس کی وجہ سے شہر کا انفرااسٹرکچر تباہ ہورہاہے۔ پیسہ سب مل جاتا ہے اس پیسے کو استعمال نہیں کیا جاتا، کراچی سب سے بڑا شہر ہے، اس شہر کی انکم بڑھانے کیلئے انفراسٹرکچر بہتر کرنا پڑے گا۔

انور منصور خان کہا کہ کراچی کے شہری کہتے ہیں جب ہم پیسہ دیتے ہیں تو ہمیں بھی اس مستفید کیا جائے اس لئے اگر فنانشل ایمرجنسی نہیں لگی تو یہ شہر تباہ ہوجائے گا، کیونکہ کاغذ تک تو بہت پراجیکٹ سامنے آتے ہیں لیکن عمل کچھ نہیں ہوتا یہی ایک الیمہ ہے اس صوبے کا۔

  • ایک طرف اٹھارویں ترمیم کا رونا روتے ہیں تو دوسری طرف ایک صوبائی مسئلے کا حل وفاقی حکومت سے مانگتے ہیں۔ پیپلز پارٹی والوں کو تو بلکل بھی شرم نہی آتی جب وہ یہ گلا کرتے نظر آتے ہیں کہ وفاقی حکومت کراچی کے لئے کچھ نہی کر رہی۔ میرے خیال میں مسئلے کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے آئین کی شق ۱۴۹۔ سندھ کے صوبائی بجٹ سے پیسے ہولڈ بیک کریں اور کراچی کو سدھاریں۔ اس میں پچاس لاکھ درخت لگائیں، ٹریفک کا مسئلہ حل کریں، سرکلر ریل کے لئے چائنا سے نئی ریل کارز لیں، میٹروز بنائیں، پانی کا مسئلہ حل کریں اور کراچی کو آٹھ حصوں میں تقسیم کر کے آٹھ مختلف کمپنیوں کو صفائی کا ٹھیکا دیں۔ ہر کمپنی، بزنس، دوکان پر سالانہ پانچ ہزارسے ایک لاکھ تک صفائی کا ٹیکس لگائیں۔
    کراچی میں کوٹا سسٹم کا مسئلہ حل کریں اور لوگوں کو وفاق میں نوکریاں دیں۔ ان مسائل کے حل سے کراچی پی ٹی آئی کا گڑھ بن سکتا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >