نا اہل تفتیشی افسران سنگین مقدمات کو بھی کمزور بنانے لگے

کالعدم داعش کے فنڈنگ کیس میں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے پولیس کی تفتیش کو ناقص قرار دیا عدالت نے کہا کہ تفتیشی افسر علی حیدر کی ناقص تفتیش اور سنگین غلطیوں سے مقدمہ کمزور ہوا۔

عدالت نے ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی کو تفتیشی افسر اور ہیڈ کانسٹیبل ماجد خان کیخلاف انکوائری کرکے 30 دن میں رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

انسداد دہشت گردی کمپلیکس میں عدالت نمبر 12 نے کالعدم تنظیم داعش کے لیے فنڈنگ کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سنادیا، عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم سلیم احمد کو مجموعی طور پر ساڑھے 5 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔

عدالت نے جرم ثابت ہونے پر مجرم سلیم احمد کو مجموعی طور پر ساڑھے 5 سال قید اور 20 ہزار جرمانے کی سزا دی، عدالت نے حکم دیا کہ مجرم کے جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں مجرم کو مزید 8 ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

سی ٹی ڈی کے مطابق مجرم سلیم احمد کو کراچی ایڈمن سوسائٹی سے گرفتار کیا تھا، مجرم سلیم احمد اس سے قبل بھی کالعدم تنظیم سے روابط پر گرفتار ہوچکا ہے، مجرم کے خلاف قائم جے آئی ٹی نے بھی مجرم کو "گرے” قرار دیا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر 12 نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پولیس تفتیش کو ناقص قرار دیا۔

عدالت نے فیصلے میں کہا کہ تفتیشی افسر نے مقدمے سے متعلق دستاویزات میں سنگین غلطیاں کیں، تفتیشی افسر نے استغاثہ کے گواہ کے بیان میں غلط نام کا اندراج کیا۔

عدالت نے ریمارکس دیئے پولیس نے مجرم کی نشاندہی پر برآمدگی کو بھی مشکوک بنایا، عدالت نے مقدمے کے تفتیشی افسر علی حیدر اور ہیڈکانسٹیبل ماجد خان کے خلاف انکوائری کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ پولیس نے تفتیش میں سنگین غلطیاں کرکے استغاثہ کا مقدمہ کمزور کیا۔ ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی انکوائری کی رپورٹ 30 دن میں جمع کرائیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >