غلطی کی سزا بھگتنے والا دروازہ 100 برس کی قید کاٹنے کے بعد بھی رہائی کا منتظر

 غلطی کی سزا بھگتنے والا دروازہ 100 برس کی قید کاٹنے کے بعد بھی رہائی کا منتظر

جس کسی کو بھی سزا دی جاتی ہے وہ کسی نہ کسی جرم کی پاداش میں ہوتی ہے اور ہمارے ملک میں تو ویسے بھی سزا کاٹنے کے بعد جیلوں میں پڑے رہنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے یہ وہ لوگ ہیں جو سزا مکمل ہونے کے بعد بھی رہائی کے انتظامات نہ ہونے یا نہ کر سکنے پر بلاوجہ سزا کاٹ رہے ہوتے ہیں۔

آپ کو بتاتے ہیں ایسے ہی سزا کاٹنے والے کی داستاں جو کہ نہ تو کوئی عادی مجرم ہے بلکہ وہ تو کوئی جاندار بھی نہیں وہ تو ایک لکڑی کا دروازہ ہے جس نے دشمنوں کو گزرنے دینے کی غفلت دکھائی جس پر سزا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی۔

اس دروازے کو 100سال قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم اب اس سزا کو پورے ہوئے 80 برس کا عرصہ بیت چکا ہے مگر اس اسیر دروازے کی رہائی کا خیال کسی کو نہیں آیا۔

یہ دروازہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کی تحصیل شبقدر میں واقع ایک قلعہ کا ہے، یہ قلعہ اب ایف سی کے زیر استعمال ہے۔

1840 میں آزادی کے متوالے کچھ مقامی جنگجو اس قلعے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور اس پر قبضہ کرلیا، اس دور میں وہاں سکھ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکمرانی تھی، مہمند قبیلے سے تعلق رکھنے والے وہ جنگجو وہاں قابض تو ہوگئے لیکن ان کا وہ تسلط بہت ہی عارضی ثابت ہوا ۔

مہاراجہ کی فوج نے وہ قبضہ جلد ہی چھڑوالیا۔ قلعہ تو واپس آگیا لیکن اس واقعے کی وجہ سے مہاراجہ کے بیٹے سردار شیر سنگھ جو فوج کا سپہ سالار تھا کو سخت دھچکا لگا اور اس نے واقعے کی تحقیقات اور اس ضمن میں کوتاہی کے مرتکب کو کورٹ مارشل کے تحت سخت سزا دینے کا حکم صادر کیا۔

سکھوں کی فوج کے ایک فرانسیسی جنرل جیک وینٹورا کی سربراہی میں 2 روزہ سماعت ہوئی، جس کے دوران قلعے کے مرکزی دروازے کو قصوروار پایا گیا اور اسے مجرم ٹھہرا کر  100 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔ اس دو پلڑوں والے لکڑی کے دروازے کو اپنے مقام سے ہٹا کر قلعہ کے 120 فٹ اونچے واچ ٹاور سے زنجیروں کے ذریعے باندھ دیا گیا تب سے پابند سلاسل وہ دروازہ اسی جگہ قید ہے۔

شبقدر کا یہ قلعہ 1837 میں تعمیر کیا گیا تھا اور وہ مرکزی دروازہ کامیابی کے ساتھ اپنے فرائض بخوبی انجام دیتا رہا تاہم اس کے 3 سال بعد 1840 میں یہ دروازہ مہمند قبیلے کے جری جوانوں کو اندر داخل ہونے سے نہ روک سکا، جس پر اس کا کورٹ مارشل کر دیا گیا۔ اس دروازے کی قید کی مدت تو 80 برس پہلے ہی یعنی قیام پاکستان سے بھی قبل ختم ہوچکی لیکن اسے رہائی تاحال نہیں مل سکی۔

تاہم وقتاً فوقتاً تاریخی اہمیت کے حامل اس دروازے پر دیمک سے بچاؤ کا سپرے کرنے سمیت دیگر ضروری اقدامات کئے جاتے ہیں تاکہ اس کی اصل حالت برقرار رہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >