سینیئر اینکر شہزاد حسن کی تنخواہ آدھی،میڈیا انڈسٹری چھوڑ دی

سینیئراینکر پرسن شہزاد حسن نے بارہ اگست کو اچانک جی این این سے استفعیٰ دیا لیکن کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ اچانک فیصلہ کیوں کیا گیا ہے، شہزاد حسن نے اپنے ساتھی اینکرز دوست ناجیہ اشعر اور جنید  سے ویڈیو گفتگو میں اصل حقیقت بیان کردی۔

شہزاد حسن نے بتایا کہ  میری تنخواہ آدھی کردی گئی تھی، یعنی آج سے بارہ سال پہلے جو میری تنخواہ تھی مجھے دوبارہ اسی تنخواہ پر لے جایا گیا، پہلے میرا ایک بچہ تھا اب میرے تین بچے اور آٹھ کتے ہیں، دنیا میں کچھ بھی سستا نہیں ہوا،سب مہنگا ہوا ہے

اینکر پرسن شہزاد حسن تنخواہ آدھی کئے جانے پر

اینکر پرسن شہزاد حسن تنخواہ آدھی کئے جانے پر میڈیا انڈسٹری چھوڑتے ہوئے۔ سنیں انکی گفتگو

Posted by Trends Pakistan on Friday, August 14, 2020

اور میری تنخواہ آدھی کردی گئی ہے، میں نے فیصلہ لیا کہ میں اپنی سروس ان پیسوں میں نہیں بیچنا چاہتا ہوں، اسلئے میں نے جاب چھوڑی اور اب میں سوچ رہاہوں کہ مجھے مستقبل میں کیا کرنا ہے، میں پاکستان میں رہوں گا یا نہیں رہوں گا،

میں کھیتی باڑی کروں گا، یا ڈیجیٹل مارکیٹنگ میں چلا جاؤں گا، میرے اس اچانک فیصلے کے بعد مجھے گھر جاکر اماں کی ڈانٹ سننی ہے، بیوی کے مسائل سننے ہیں کہ اگلا ماہ کا خرچہ کیسے اٹھانا ہے۔

میڈیا کے حالات سے مایوس ہو کر شہزاد حسن مشورہ دیا کہ میں ان تمام لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں جو میڈیامیں آنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو کچھ اور کرسکتے ہیں تو کرلیں کیونکہ میڈیا میں آئندہ پانچ سال بہت خراب ہونے والے  ہیں، اور اگر کرنا بھی چاہتے ہیں تو کمر کس لیں۔۔

شہزاد حسن نے واضح کردیا کہ وہ بالکل بھی دوبارہ میڈیامیں نہیں آنے والے ہیں، انہوں نے بتایا کہ انہیں دو تین چینلز سے کالز آئی ہیں لیکن وہ کیمرہ کے سامنے اور پیچھے کام نہیں کرینگے، انہوں کیمرہ بالکل چھوڑ دیا، اٹھارہ سال اس فیلڈ میں گزارے ہیں، بہت انجوائے کیا، اور اب میں کچھ اور کرنا چاہتا ہوں میڈیا سے میرا دور دور تک کوئی تعلق نہیں رہے گا۔

شہزاد حسن نے کہا کہ  نیوز اینکر سے پروگرام اینکر بننے کو پاکستان میں کامیابی سمجھا جاتا ہے جو ایک غلط تاثر ہے، کیونکہ اگر آپ نیوز اینکر سے پروگرام اینکر نہیں بنے تو  آپ فیل ہوگئے ایسا پاکستان میں سمجھا جاتا ہے، جبکہ دونوں بہت الگ الگ صورتحال ہوتی ہیں بہت الگ فیلڈ ہیں، ماریہ میمن، منصور علی خان اور غریدہ فاروقی سمیت بہت گنے

چنے نیوز اینکرز ہیں جو پروگرام اینکرز بنے ہیں، اگر آپ نیوز اینکر ہیں تو آپ سینیئر نیوز اینکر بن جاتے ہیں، آپ کو ایگزیکٹو پوسٹ نہیں ملتی، آپ کے زیرنگرانی جو پینل پروڈیوسر کام کررہے ہوتے وہ آپ کے ڈائریکٹر بن کر آپ کو کام سکھارہے ہوتے ہیں۔

شہزاد حسن نے کہا اگر نیوز اینکر کسی رپورٹر کے علاقے میں رپورٹنگ کرنے جاتا ہےتو رپورٹر ناراض ہوجاتا ہے شکایت کردیتا ہے، ہرجگہ پر اینکر کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے،
شہزار حسن نے جیو نیوز میں کام کے وقت کو یاد کرتے ہوئے ناجیہ اشعر سے تصدیق کے ساتھ کہا کہ جب ہم جیو نیوز پر کام کرتے تھے تو ہم اپنی مرضی سے ایک لائن نہیں کہہ سکتے تھے، لنک  نہیں کرسکتے تھے، جب آپ اپنا دماغ استعمال نہیں کرسکتے تو کیا کرینگے۔

شہزاد حسن نے بتایا کہ انہوں نے جیو نیوز میں نو سال کام کیا ہے، نوسال کام کرنے کے بعد بھی اس قابل نہیں ہوسکا کہ میں نیوز اینکر سے پروگرام اینکر بن سکوں کیونکہ میرا اپنا نظریہ اور موقف نہیں تھا۔

شہزاد حسن میڈیا میں  ادائیگی و تلفظ پر عبور رکھنے والے سینئیر اینکر سمجھے جاتے ہیں، استفعی دیتے وقت  انہوں نے میڈیا میں اپنے اٹھارہ سالہ سفر کو یادگار قرار دیا اور اپنے ان تمام دوستو اور سپورٹرز کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اچھے برے وقت میں ہمیشہ ساتھ دیا۔

  • He is living beyond means from today’s media industry standards. Previously, Zardari and Sharif’s were bribing media through self projections/advertisements. This is journey from inflated media industry to real one. Anchor Shahzad will most likely regret his decision.

  • Anchor ki salary fazool me itni high ti wo b govt k ads ki waja sy jo ganjy aur PPP waly dety rhy, ab apni awqaat p mazeed inho ny ana h.
    konsa ko productive kaam kr rhy thy jo lakho me salary lety rhy.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >