سرکاری خزانے میں417 ارب آئیں گے، سابق مشیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ

سرکاری خزانے میں417 ارب یا 122 آئیں گے، عوام میں ابہام باقی ہے، لیکن ہر صورت حکومت کی لاٹری لگ گئی ہے، دوہزار بارہ سے دوہزار اٹھارہ تک کمپنیوں پر جی آئی ڈی سی کے مجموعی طور پر سات سو بارہ ارب روپے کے واجبات تھے۔۔ اس حوالے سےماہرانہ رائے جاننے کیلئے نجی ٹی وی کے پروگرام میں میزبان کامران خان نے پاکستان کے سابق مشیر خزانہ اور ماہرین معاشیات ڈاکٹر سلمان شاہ سے بات کی۔

ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا جہاں تک میں اس حوالے سے دیکھا ہے اب تک سات سو ارب روپے تک اس سیس کے مطابق جب سے لگے گا مل جانے چاہئے تھے اور جب یہ کیس سپریم کورٹ میں چلا ہے اس وقت تک حکومت کو سات سو ارب روپے مل جانے  چاہئے تھے،دوسو پچیانوے ارب مل چکے ہیں جس پر کامران خان نے کہا کہ یہ رقم تو مسلم لیگ ن کی حکومت خرچ کرچکی ہے، جس پرڈاکٹر سلمان شاہ  نے بتایا کہ میری اطلاعات کے مطابق پندرہ بیس ارب گیس پر خرچ کئے گئے، باقی بجٹری سپورٹ میں استعمال ہوئے ہیں۔

جی آئی ڈی سی حکومتی خزانے میں 417 ارب یا 122؟ پی ایم ایل این حکومت 295 ارب بجٹ میں کھپا چکی!

جی آئی ڈی سی حکومتی خزانے میں 417 ارب یا 122؟پی ایم ایل این حکومت 295 ارب بجٹ میں کھپا چکی!گیس انفرا اسٹرکچرسرچارج700 ارب سے زائد جمع ہوئے!بہر صورت حکومت کی لاٹری لگ گئی !

Posted by Kamran Khan on Friday, August 14, 2020

کامران خان نے سابق مشیر خزانہ سے سوال کیا کہ حکومت کے پاس 417ارب روپے آئیں گے یا 295ارب ایڈجسٹ ہونگے اور 122ارب ملیں گے؟

سابق مشیر خزانہ نے جواب دیا کہ 417ارب روپے ہی آئیں گے، دوسوپچیانوے ارب آچکے اور مجموعی رقم سات سو ارب روپے تھی، یعنی چار سو سے تھوڑا زیادہ آئے گا جو سپریم کورٹ نے آرڈر کیا ہے،اب یہ جو چار سو اضافی آئیں گے وہ آئندہ چوبیس ماہ میں آئیں گے، سپریم کورٹ نے کہا کہ  یہ ٹوٹل رقم گیس کے انفرااسٹرکچر پر خرچ کرنی ہے۔

کامران خان نے کہا گیس پراجیکٹ کیلئے چار سو ارب بہت زیادہ ہیں حکومت کیسے خرچ کرے گی؟ سابق مید خزانہ نے بتایا کہ پاکستان میں خرچ کیلئے بہت سے گیس کے بہت سے پراجیکٹس ہیں یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >