امریکہ نے اسرائیل کے لیے "چارم اوفینیسیو” کیوں لانچ کیا؟

امریکہ نے اسرائیل کے لیے "چارم افینیسیو” کیوں لانچ کیا؟ انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے متحرک ہونے کی کیا وجہ بنی؟ جانیے اندرونی کہانی عیسی نقوی کی زبانی

صحافی ایسا نقوی کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد سے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ متحرک نظر آرہی ہے، اگلے چند روز میں یہ پہلا موقع ہو گا کہ ایک کمرشل پرواز تل ابیب سے اڑان بھرے گی اور تاریخ میں پہلی بار ڈائریکٹ متحدہ عرب امارات پہنچے گی۔

لیکن خاص بات  یہاں یہ ہے کہ اس کمرشل پرواز میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر، امریکی صدر کے نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اوبرائن اور اسرائیل کی اسٹیبلشمنٹ کے اہم عہدیدار بھی اسی طیارے میں سوار ہوکر متحدہ عرب امارات پہنچیں گے۔

عیسی نقوی کے مطابق اس وقت اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو کے دربار میں دنیا بھر کی اسٹیبلشمنٹ کے اعلیٰ عہدے دار آکر ماتھا ٹیک رہے ہیں اور پاور شیئرنگ فارمولہ کے تحت 2021 میں اسرائیل کے نئے بننے والے صدر مینی گارڈز جو اس وقت اسرائیل کے وزیر دفاع بھی ہیں کے ساتھ زور و شور سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، اور اس ملاقات میں ایک جال بنا جارہا ہے جس میں 22 عرب ممالک کو پھنسایا جائے گا۔

اپنے تجزیے میں انہوں نے مزید بتایا کہ عرب ممالک کو پھنسانے کے لئے جو جال بنا جا رہا ہے اسی سلسلے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو خصوصی پرواز کے ذریعے پہلے اسرائیل گئے اور وہاں نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد سوڈان پہنچے اور وہاں سے بحرین گئے۔

جہاں انہوں نے سوڈان اور بحرین پر دباؤ ڈالا کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کریں لیکن دونوں ممالک سے مائیک پومپیو کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ دونوں ممالک نے امریکہ کے دباؤ کو مسترد کرتے ہوئے اسرائیل کو ماننے سے انکار کر دیا۔

دونوں ممالک سے ہزیمت کا سامنا کرنے کے بعد مائیک پومپیو عرب امارات پہنچے جہاں وہ متحدہ عرب امارات کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ  یہ حکمت عملی بنا رہے ہیں کہ کس طرح اس سے جلد از جلد دوسرے عرب ممالک کو آمادہ کیا جائے کہ وہ اسرائیل کے سامنے جھک جائیں اور اسے تسلیم کرلیں اور اس کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو بحال کریں۔

مائیک پومپیو کی اسرائیل میں نیتن یاہو سے ہونے والی ملاقات میں امریکہ کے جدید لڑاکا طیارے ایف 35 ممکنہ طور پر متحدہ عرب امارات کو دینے بارے تبادلہ خیال کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ اس وقت متحدہ عرب امارات کے علاوہ باقی تمام عرب ممالک کے پاس جا کر انہیں رشوت آفر کر رہا ہے کہ اگر آپ اسرائیل کو تسلیم کر لیتے ہیں تو آپ کو کون کون سی سہولیات فراہم کی جائیں گی اس کے بارے میں آپ سوچ بھی نہیں سکتے اور ایسی سٹیٹ جسکا نام پہلے سے دہشت گردی کی فہرست میں شامل ہے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بعد ان کا نام بھی دہشت گردی کی فہرست میں شامل نہیں رہے گا۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>