موٹروے واقعہ: متاثرہ خاتون نے ملزم وقار الحسن کو پہچاننے سے انکار کر دیا

موٹروے واقعہ: متاثرہ خاتون نے ملزم وقار الحسن کو پہچاننے سے انکار کر دیا

لاہور سے گجرانوالہ جانے والی خاتون کے ساتھ موٹروے پر زیادتی کے کیس میں نامزد ملزم نے خود کو سی آئی اے ماڈل ٹاؤن کے سامنے پیش کر دیا، ملزم وقار الحسن کا سی آئی اے ماڈل ٹاؤن پولیس کے سامنے پیش ہو کر کہنا تھا کہ وہ اس واقعہ میں ملوث نہیں ہے۔

دوسری جانب  سی آئی اے پولیس نے متاثرہ خاتون کو ملزم وقار الحسن کی ایک تصویر واٹس ایپ پر بھیجی تو خاتون کا ملزم وقار الحسن کی تصویر دیکھ کر شناخت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ملزم وقار الحسن زیادتی کے واقعہ میں ملوث نہیں تھا، جس پر پولیس کا اپنے مؤقف میں کہنا ہے کہ اصل حقائق کا پتہ ڈی این اے کی حتمی رپورٹ آنے کے بعد چلے گا۔

خبر رساں ادارے کے نمائندوں نے جب وقار الحسن کے والد اور بڑے بھائی مشتاق سے رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ وقار الحسن موٹر سائیکلوں کی دکان پر کام کرکے محنت مزدوری کرتا ہے اور محنت مزدوری کرکے ہی اپنا گھر چلا رہا ہے، دوسری جانب ملزم وقار کے اہل محلہ کا بھی یہی کہنا تھا کہ وہ بیس سال سے علی ٹاؤن میں رہائش پذیر ہے اور محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالتا ہے وہ اس طرح کا بالکل بھی نہیں ہے۔

دوسری جانب موٹروے پر زیادتی کے کیس میں ملوث دوسرے مرکزی ملزم عابد ملہی کے متعلق اہل محلہ سے پوچھا گیا تو وہ اس کی کرتوتوں پر پھٹ پڑے اور کہا کہ ملزم عابد ملہی پہلے بھی چوری، ڈکیتی اور راہزنی کی متعدد وارداتوں میں ملوث پایا گیا ہے، اس سے لوگوں کی عزت و آبرو محفوظ نہیں تھی، اگر اسے پولیس اور عدالتوں کی جانب سے پہلے ہی کڑی سے کڑی سزا دے دی جاتی تو موٹروے پر زیادتی کا واقعہ پیش نہ آتا۔

پولیس ذرائع کے مطابق سی آئی اے پولیس نے شیخوپورہ سے ملزم عابد ملہی کے والد اور دو بھائیوں کو حراست میں لے کر لاہور منتقل کر دیا ہے، پولیس کی جانب سے حراست میں لئے گئے بھائیوں میں آصف اور قاسم اور والد اکبر شامل ہیں، جن سے ملزم کی گرفتاری کے لیے تفتیش کی جا رہی ہے۔

  • پاکستانی میڈیا
    خود ہی پولیس
    خود ہی مدعی
    خود ہی گواہ
    خود ہی وکیل
    خود ہی جج
    سڑک پر کھڑے کھڑے ملزم کو بری کر دیا 🤔🤔
    میڈیا والو — خدارا اس چوتیا عوام اور ملک
    پر رحم کرو –اور انہیں مزید بے وقوف نہ بناؤ


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >