پنجاب میں پچھلے 2 سال میں جنسی زیادتی کے واقعات کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی


لاہور سیالکوٹ موٹروے پر اجتماعی زیادتی کے حالیہ واقعہ نے نہ صرف پنجاب پولیس کی کارکردگی بلکہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر بھی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔

مگر یہ واقعہ کوئی ایسا واقعہ نہیں تھا جو کہ پہلی بار یا شاذونادر دیکھنے کو ملتا ہو بلکہ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 2 سالوں میں صوبہ پنجاب میں 7 ہزار615 زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ دوسری جانب یہ تعداد ظاہر کرتی ہے کہ صوبے میں یہ شرح ہر سال خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔

دستاویزی شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ 2018 میں پنجاب میں زیادتی کے 3 ہزار 418 واقعات رپورٹ ہوئے۔ یہ تعداد 2019 میں بڑھ کر 4ہزار197 ہوگئی۔

پنجاب میں 2019 میں مجموعی طور پر 9لاکھ61ہزار737 جرائم ہوئے جن کی نسبت 2018 میں جرائم کی شرح 7لاکھ 81ہزار695 ہے۔ اگست 2018 سے تحریک انصاف حکومت کر رہی ہے جبکہ اسی دوران پولیس میں تبدیلی لانے کی غرض سے سید کلیم امام، محمد طاہر، امجد جاوید سلیمی، کیپٹن(ر) عارف سمیت پولیس کے 5 سربراہ جن میں نواز خان اور شعیب دستگیر بھی شامل ہیں کو بدلا گیا ہے۔
پنجاب پولیس کے شعبہ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت لاہور میں 2018 میں 13 اجتماعی زیادتی اور 12 کمسن بچیوں کے ساتھ زیادتی کے کیسز سامنے آئے۔ جبکہ 2019 میں ان واقعات کی تعداد476 ہو گئی جن میں سے 10 اجتماعی زیادتی اور 16 واقعات کم عمر بچیوں سے زیادتی کے ہیں۔

دیگر اضلاع کی بات کی جائے تو لاہور ڈویژن میں موجود شیخوپورہ، ننکانہ، قصور میں اجتماعی زیادتی اور کم عمر بچیوں سے زیادتی سمیت 326 کیس رپورٹ ہوئے۔

گوجرانوالہ ڈویژن میں جس میں نارووال، حافظ آباد، گجرات، منڈی بہاؤالدین، اور سیالکوٹ بھی شامل ہیں اس میں 2018 میں 382 واقعات رپورٹ ہوئے جس میں 36 واقعات اجتماعی زیادتی اور 27 واقعات نوعمر بچیوں کو جنسی درندگی کا نشانہ بنانے کے ہیں، جبکہ 2019 میں ان واقعات کی تعداد387 دیکھنے میں آئی جن میں سے 53 اجتماعی زیادتی اور 23 چھوٹی عمر کی بچیوں سے زیادتی کے ہیں۔

ساہیوال ڈویژن جس میں ساہیوال، اوکاڑہ، پاکپتن شامل ہیں یہاں 2018 میں 150 جبکہ 2019 میں زیادتی کے 364 واقعات سامنے آئے۔

راولپنڈی ڈویژن کی بات کی جائے تو یہاں پچھلے 2 سال میں میں 279 کیس رپورٹ ہوئے جن میں 126 زیادتی، 12 اجتماعی زیادتی اور 11 کیس چھوٹی عمر کی بچیوں کے ساتھ زیادتی کے ہیں۔

سرگودھا ڈویژن میں 2018 کے دوران 187 جبکہ 2019 کے دوران 191 کیس سامنے آئے۔

فیصل آباد ڈویژن زیادتی، اجتماعی زیادتی یا کم عمر اور نابالغ بچے بچیوں سے زیادتی کے واقعات میں سب سے آگے ہے اور یہ شرح خطرناک حد کو چھو رہی ہے۔ جہاں پچھلے 2 سال میں یہ تعداد 1280 ہے، جن میں سے 2018 کے دوران 551 اور 2019 میں 729 کیس رپورٹ ہوئے۔

اسی طرح پنجاب کی دیگر ڈویژنز اور اضلاع میں بھی یہ تعداد بتدریج بڑھی ہے گذشتہ دو سال کے دوران پنجاب میں قتل کے مجموعی طور پر 9376 واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں لاہور ریجن 997 ، شیخوپورہ ریجن 948 ، گوجرانوالہ 1659 ، ساہیوال 670 ، راولپنڈی 1051 ، سرگودھا828 ، فیصل آباد 1183 ، ملتان792 ، ڈیرہ غازی خان627 اور بہاولپور سے 589 قتل کے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

  • نواج بٹ اور شہبو بٹ گزشتہ 40 سالوں سے پنجاب کا کباڑا کرنے میں مصروف عمل تھے لندن دبئی سعودی عرب میں لوٹ مار کی انویسٹمنٹ کر رھے تھے آج جو پنجاب کا حال ھے یہ دو بھائی کرن نواجو بٹ اور ارجن شہباجو بٹ ہی ذمہ دار ہیں۔ پنجاب کے تمام ادارے کرپشن لوٹ کھسوٹ سے بھر دیئے خاص کر پولیس میں جرائم پیشہ افراد کو بھرتی کیا تاکہ اس شریف مافیاز کی غلامی کرتے رہیں جس کی وجہ سے پنجاب میں ھر قسم کے جرائم بد قسمتی سے بڑھ گئے
    امید ھے نئی پی ٹی آئی کی گورنمنٹ شریف مافیاز اور ان کے سہولت کاروں کو پنجاب سے سے ختم کر دیں گے

  • پہلے ان دو بھائیوں گلو بٹوں کی حکومت کی وجہ سے لوگ کیس رپورٹ کرنے سے گھبراتے تھے اب پی ٹی آئی کی گورنمنٹ کی وجہ سے پنجاب کی عوام میں حوصلہ بڑھا ھے اور اب لوگ جرائم پیشہ افراد کے خلاف رپورٹیں کر رھے ھیں پنجاب کی عوام کو اعتماد ھے کہ پی ٹی آئی کی گورنمنٹ بہت جلد لوگوں کو انصاف فراہم کرے گی اور پنجاب پولیس سے گلو بٹوں کا خاتمہ ضرور ہوگا

  • شریف برادرز نے پنجاب کو براتھل بنانے میں کوئی قصر نہیں چھوڑی۔۔
    یہاں کی تعلیم و تربیت تباہ کرکے رکھ دی حرامزادوں نے۔۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >