عاصم باجوہ فیملی کی خفیہ دستاویزات لیک کرنے والے کردار منظر عام پر آ گئے

عاصم باجوہ فیملی کی خفیہ دستاویزات لیک کرنے والے کردار منظر عام پر آ گئے

چیئرمین سی پیک  اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی فیملی کی خفیہ دستاویزات لیک کرنے کے تانے بانے دی نیوز کے رپورٹر فخر درانی اور ن لیگ سے جاملے، دی نیوز کے صحافی فخر درانی نے دستاویزات کے حصول کے لیے درخواست ایس ای سی پی کو دی تھی۔

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سے اہم معلومات لیک کرنے میں اہم کردار ایس ای سی پی کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ارسلان ظفر اور کمشنر شوکت حسین نے ادا کیا، ارسلان ظفر نے نادرا ریکارڈ سے عاصم سلیم باجوہ اور ان کی فیملی کے شناختی کارڈ نمبرز چورائے۔

21 جولائی ایس ای سی پی کے ریکارڈ سے کمپنیوں کے نام ایڈیشنل ڈائریکٹر آف ایس ای سی پی ارسلان ظفر نے نکالے، 25 جولائی کو سابق بھارتی میجر گورو نے باجوہ فیملی کی کمپنیوں پر وی لاگ کیا۔

سکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ارسلان ظفر ایس ایس پی کے سابق چیئرمین ظفر حجازی کے صاحبزادے ہیں، ظفر حجازی اور شوکت حسین پاکستان سے مفرور سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے قریبی ہیں، ظفر حجازی کو چوہدری شوگر ملز کیس میں ریکارڈ ٹیمپرنگ پر جیل بھیجا گیا تھا ۔

 

خبر رساں ادارے کے ذرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈائریکٹر ایس ای سی پی ارسلان ظفر کو جبری رخصت پر بھیج کر ان کا لیپ ٹاپ تحویل میں لے لیا گیا ہے، ارسلان ظفر نے برطانوی ویزے کے لیے سفارت خانے میں انٹرویو بھی دے رکھا ہے۔

  • مطلب پاکستان فوج کے اندر کام کرنے کے دوران اور حاضر سروس رہتے ہوئے باجوے کی اہلیہ اور بیٹے باہر کاروبار کرتے رہیں تو پھر کاغذات کسی کو بھی مل سکتے ہیں اس میں کونسی بڑی سائنس ہے؟
    سوال یہ ہے کہ اگر ججوں جنرلز اور سیاستدانوں نے اثاثے ہی بنانے ہیں تو پھر باہر ہی بیٹھے رہیں ملک چلانے کے لیے مخلص لوگوں کو لینا چاہیے جن کا کوئی کاروبار بیرون ملک نہ ہو۔

  • What a joke. Any civilised and fair minded person will stress on to ask this corrupt general to produce money trail for his mind boggling increase in wealth but in this land of jokers everybody is after the blood of those who leaked these genuine documents. For God sake,they did not fake these documents like Qatari letter by nawaz ganja mafia but got them from SECP which is bound to give this info under right to information act anyway.


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >