سینیٹ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا عدم پیشی پر سی سی پی او کے سمن جاری کرنے کا فیصلہ

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا عدم پیشی پر سی سی پی او لاہور کے سمن جاری کرنے کا فیصلہ

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں سی سی پی او لاہور عمرشیخ کو موٹروے پر زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون سے متعلق  ریمارکس پر وضاحت کے لیے طلب کیا گیا تھا، تاہم سی سی پی او کی عدم پیشی پر کمیٹی کی جانب سے برہمی کا اظہار کیا گیا۔

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ سی سی پی او لاہور عمرشیخ اتنے بااثر ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کو جوابدہ نہیں ہیں، انہوں نے طلب کیے جانے کے باوجود پیش نہ ہوکر کمیٹی کا استحقاق مجروح کیا ہے جس پر ان کے خلاف تحریک چلائی جائے گی۔

علاوہ ازیں کمیٹی کے اراکین نے بھی سی سی پی او لاہور کی عدم شرکت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں عہدے سے ہٹانے اور ان کے سمن جاری کرنے کا مطالبہ کردیا، چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر کا کہنا تھا کہ سی سی پی او کے خلاف کمیٹی اپنے سول کورٹ کے اختیارات استعمال کرے گی اور تاریخ میں پہلی بار کمیٹی اپنے سول کورٹ کے اختیارات استعمال کررہی ہے، سی سی پی او کی زر ضمانت بھی ضبط کی جا سکتی ہے۔

دریں اثناء آئی جی موٹروے پولیس کلیم امام کا کمیٹی کے روبرو پیش ہوکر کہنا تھا کہ خاتون کے ساتھ زیادتی کا معاملہ موٹر وے پر پیش نہیں آیا، متاثرہ خاتون کی جانب سے رات دو بجے کے قریب موٹر وے کی ہیلپ لائن پر کال کی گئی جو کہ ایمرجنسی کال نہیں تھی، جس جگہ پر خاتون کے ساتھ زیادتی کی گئی وہاں پر سکیورٹی کی ذمہ داری موٹروے پولیس کی نہیں ہے۔

دوسری جانب نے سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کے اجلاس میں وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے شرکت کی کوشش کی ، لیکن کمیٹی کے اراکین کے احتجاج پر کمیٹی کے چیئرمین مصطفی نواز کھوکھر نے فیصل واوڈا کو شرکت کی اجازت نہیں دی جس کے بعد وفاقی وزیر کو کمیٹی روم سے جانا پڑا۔

سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق نے موٹروے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کے معاملے پر خواتین ارکان پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی بھی تشکیل دی، جس میں سینیٹر عائشہ اور سینیٹر عینی کو شامل کیا گیا، جو ریاستی اداروں کی جانب سے غفلت کی تحقیقات اور زیادتی کے اس کیس میں ذمہ داران کا تعین کریں گی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >