زیادتی کی شکار مجبور بیٹی کے آخری الفاظ نے در و دیوار ہلادئیے

زیادتی کا شکاربیٹی نے زہر کھایا اور دم توڑ گئی۔۔ زیادتی کا شکار مجبور بیٹی کے آخری الفاظ نے در و دیوار ہلا کر رکھ دئیے

تفصیلات کے مطابق بہاولپور میں زیادتی کا شکار طاہرہ نامی لڑکی نے پولیس کے روئیے سے دلبرداشتہ ہو کر خود کشی کر لی۔پولیس بجائے بااثر ملزمان کو گرفتار کرنے کے صلح کروانے میں لگی رہی ، لڑکی کا بات کبھی تھانے، کبھی چوکی کے دھکے کھاتا رہا لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔

زیادتی کا شکار لڑکی نے تنگ آکر خودکشی کی تو یہ معاملہ ڈی پی او کے علم میں آیا تو نہ صرف ملزم گرفتار ہوگیا بلکہ ایس ایچ او سمیت پولیس افسران کو بھی حوالات کی سیر کرنا پڑی۔

لڑکی کے باپ نے کہا کہ ہم درخواست لکھواکر تھانے گئے، تھانے میں درخواست دی تو انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی بڑا افسر نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آپ درخواست رکھ جاؤ، ہم ایک دو دن میں آپکو بلاتے ہیں پھر آپ سے بات کرتے ہیں۔ ہم خاموشی سے گھر چلے گئے، جب ہم گھر پہنچے تو رات ساڑھے 10 بجے کا وقت تھا

میری بیٹی اٹھی اور واش روم جاکر سپرے پی کر باہر آئی اور مجھے کہا کہ بابا! آپ صبح منہ دکھانے والے ہوں گے۔

ڈی پی او صہیب اشرف نے واقعے کا علم ہوتے ہی تھانے کا دورہ کیا، ایس ایچ او اور دیگر افسران کو حوالات میں بند کروادیا اور ملزم کو فوری طور پر گرفتار کروایا۔

  • Candle mafia, media and internet warriors are not bothered, she was not french citizen out on the motor way in the middle of the night.

    She deserved this type of treatment, she was poor Pakistani.

  • ہے کوئی مائی کا لال جج جو سوؤموٹو لے اور ان مقامی پولیس افسران کو بھرے چوراہے میں منہ کالا کر کے جوتے مروائے اور دس دس سال اندر کرے اور یہ بہانہ مت بنانا کہ قانون اس کی اجازت نہی دیتا کیونکہ یہی جج ہر الٹے کام کے لئے نظریہ ضرورت کو بیناد بنا کر فیصلے کرتے رہے ہیں۔۔ اور آئی جی پنجاب آپ بھی اب کچھ شرم کرو آپ کا صوبہ پر لعنتیں برس رہی ہیں۔ کیا آپ اپنی نفری کے اعمال کے ذمہ دار نہی ہو؟

  • پولیس ہی تمام جرائم کی ذمہ دار ھے ہمیشہ پولیس طاقتور لوگوں کی مدد کرتی ھے آمید ھے اس خاندان کو جلد از جلد انصاف ملے گا اور تمام پولیس والے ہی اس معصوم لڑکی کی خود کشی کے زمہ دار ہی ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >