جنسی زیادتی کے واقعات کو روکنے کیلئے پنجاب پولیس میں ریپ انویسٹی گیشن یونٹ بنانے کا فیصلہ

لاہور کے علاقے گجرپورہ لنک روڈ پر خاتون سے زیادتی کا کیس سامنے آنے کے بعد پنجاب پولیس نے صوبے کے تمام تھانوں میں "ریپ انویسٹی گیشن سیل” قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

پولیس حکام کی جانب سے پنجاب کے تمام تھانوں میں خصوصی سیل ریپ انویسٹی گیشن یونٹ(آر آئی یو) بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو خواتین اور بچوں سے جنسی زیادتی اور انہیں ہراساں کرنے کے واقعات کی بطور خاص تحقیقات کرے گا۔

پنجاب کے تمام تھانوں میں مخصوص تفتیشی افسران ریپ انویسٹی گیشن یونٹ کا حصہ ہوں گے اور یہ سیل صوبے کے بڑے اضلاع میں ایس پی رینک ک افسر کی نگرانی میں کام کرے گا۔

انویسٹی گیشن یونٹ کے پاس ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ جلد حاصل کرنے کے خصوصی اختیارات ہوں گے۔ ملزمان کی شناخت، گرفتاری، شواہد اور گواہوں کو تحفظ دینا تفتیشی افسران کی ذمہ داریوں میں شامل ہوگا۔ اس سیل کی خاص بات یہ ہے کہ آر آئی یو میں تعینات تفتیشی افسران دیگر ڈیوٹیوں سے مبرا ہوں گے۔

موٹر وے زیادتی کیس کے بعد پورے ملک میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا

  • ا سال کے لئے اس پولیس یونٹ کی کارکردگی دیکھی جائے اگر اس پولیس یونٹ کی کارکردگی تسلی بخش ہو تو ٹھیک ھے ورنہ اس یونٹ کا سربراہ ملٹری پولیس سے لیا جائے اب مزید اس طرح کے واقعات عوام برداشت نہیں کرے گی پولیس کو آخری موقع دیا جائے کہ پنجاب اور سندھ سے زیادتی کے واقعات مکمل طور پر ختم کریں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >