گجرپورہ زیادتی کیس، مرکزی ملزم عابد کی تصویر کہاں سے لیک ہوئی پتہ چل گیا

پنجاب کابینہ کے اجلاس میں گجر پورہ زیادتی کیس کے مرکزی ملزم عابد کی تصویر لیک ہونے پر ارکان نے احتجاج کیا تھا۔ ارکان اسمبلی کا کہنا تھا کہ ملزم کی تصویر لیک ہونے کے باعث اسے فرار ہونے کا موقع ملا، جس پر وزیر اعلیٰ نے 14 ستمبر کو تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے ذمہ دار کا تعین کرنے کا حکم دیا تھا۔

اب چونکہ ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی ملزم تاحال گرفت میں نہیں آ سکا تو اس حوالے سے تصویر اور دیگر معلومات لیک کرنے کے حوالے سے تیار کی گئی ابتدائی رپورٹ ایوان وزیر اعلیٰ کو موصول ہو گئی ہے۔ حتمی رپورٹ وزیراعلیٰ کو دورہ جنوبی پنجاب سے واپسی پر پیش کی جائےگی۔

اس ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تحقیقاتی رپورٹ اور تصویر پولیس ڈیپارٹمنٹ سے نہیں بلکہ یہ رپورٹ فرانزک ڈیپارٹمنٹ سے لیک ہوئی، رپورٹ لیک کرنے والے متعلقہ شخص کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔

یاد رہے کہ پنجاب کی پولیس گجرپورہ واقعہ کے مرکزی ملزم عابد کی گرفتاری کیلئے صبح شام کارروائیاں کر رہی ہے جبکہ کیس میں نامزد دیگر 2 ملزم شفقت اور بالامستری پولیس کی حراست میں ہیں۔

  • فرانزک لیب میں یا پولیس میں جو جو کالی بھیڑیں موجود ہیں ان کو نوکریوں سے فارغ کر کے ان کی جائیدادوں کی تحقیقات اور مکمل انکوائری کرائی جائیں کہ یہ کالی بھیڑیں کس کی آلا کار ہیں اور فرانزک لیب اور پولیس میں موجود کالی بھیڑیں کن کن مجرموں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں

  • اس کیس میں ابھی تک کچھ سوال حل طلب ہیں۔ سب سے پہلا سوال تو یہ ہے متاثرہ خاتون نے جس لوکل پولیس نمبر پہ کال کی تھی وہ کس تھانے کا تھا؟ پھر اُس فون کو ریسیو کرنے والا کون تھا؟ کیا تفتیشی اداروں نے فون ریسیو کرنے والے سے کوئی تفتیش کی ہے؟
    بالا مستری جائے وقو عہ تک کیسے پہنچا؟ ان سوالوں کے جواب آنے پہ ہی پتہ چلے گا کہ کون کس کے ساتھ مِلا ہوا تھا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >