مغربی ممالک میں میڈیا اور سوشل میڈیا کو کیسے سختی سے ریگولیٹ کیا جاتا ہے؟

مغربی ممالک میں میڈیا  اور سوشل میڈیا کو کیسے سختی سے ریگولیٹ کیا جاتا ہے؟

صحافی اور بلاگر اطہر کاظمی کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک میں سوشل میڈیا اور مین سٹریم میڈیا پر حکومت کی کڑی نظر ہوتی ہے وہاں کسی بھی سوشل میڈیا صارف کی جانب سے قواعد و ضوابط کے خلاف مواد شیئر کرنے پر اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جاتی ہے۔

اطہر کاظمی نے اپنے ویڈیو بلاگ میں آسٹریلیا کے ایک واقعے کی ویڈیو چلاتے ہو ئے بتایا کہ ویڈیو میں دکھائی جانے والی عورت نے فیس بک پر یہ پوسٹ کی تھی کہ ہمیں لاک ڈاؤن کے خلاف خاموش احتجاج کرنا چاہیے ، اس کے اس بیان پر اسے پولیس تھانے لے گئی وہ پولیس اسٹیشن میں یہی کہہ رہی ہے کہ میں وہ پوسٹ ڈیلیٹ کردیتی ہوں مگر پولیس اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے بغیر اسے نہیں چھوڑتی۔

اطہر کاظمی نے کہا کہ یہ صرف آسٹریلیا کی بات نہیں ہے لندن میں 2010 سے لے کر 2015 تک ڈھائی ہزار لوگوں کو سوشل میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا، اسی طرح برطانیہ کے ایک شہر لنکا کی پولیس کے مطابق 2019 سے 2020 کے درمیان تقریبا 3 ہزار ایسے کیسز رپورٹ ہوئے جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے متعلق تھے۔

اس کے برعکس پاکستان میں سوشل میڈیا صارفین ان تمام قوانین سے آزاد ہیں، مگر مغرب میں سوشل میڈیا ہو یا روایتی میڈیا اسے سختی سے ریگولیٹ کیا جاتا ہے، برطانیہ کے ایک سابق اسپیکر قومی اسمبلی کی اہلیہ نے کچھ عرصے قبل ایک ٹویٹ کی، انہوں نے ایک شخص جس پر کرپشن کے الزامات تھے کے حوالے سے پوچھا کہ ان کا نام ٹویٹر پر ٹرینڈ کیوں کررہا ہے؟۔

اس شخص نے یہ ٹویٹ دیکھ کر عدالت میں شکایت دائر کردی جس پر برطانیہ کی ہائی کورٹ نے سابق اسپیکر کی اہلیہ کے خلاف فیصلہ دیا اور کہا کہ آپ نے اس شخص کی ہتک عزت کی ہے اور اب آپ کو جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

اطہر کاظمی نے کہا کہ مغرب میں آپ سوشل میڈیا پر کسی بھی سیاسی جماعت، حکومت، مذہب فرقے یا ادارے پر آزادانہ تنقید نہیں کرسکتے یا آپ نفرت آمیز پیغامات ، کسی کو ہراساں نہیں کرسکتے، مگر ایسی آزادی رائے صرف آپ کو پاکستان میں میسر آسکتی ہے، مہذب معاشرے جہاں قانون کی عملداری ہوتی ہے وہاں ایسی آزادی کا تصور بھی نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر روایتی میڈیا کی بات کی جائے تو برطانیہ میں کچھ عرصہ قبل بی بی سی کے ایک صحافی نے دہشت گردی اور دیگر موضوعات کے حوالے سے کچھ رپورٹس کیں تو وہاں کی پولیس نے اس صحافی کا لیپ ٹاپ اپنے قبضے میں لے لیا، اس میں موجود مواد کی چھان بین ہوئی اور کافی عرصے بعد وہ لیپ ٹاپ صحافی کو واپس ملا۔

اطہر کاظمی نے کہا کہ کیا پاکستان میں ایسا تصور کیا جاسکتا ہے کہ پولیس کسی چینل میں جاکر کسی صحافی کے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر اپنے قبضے میں لے لے تو لوگ فورا شور مچانا شروع کردیں گے کہ آزادی رائے پر حملہ ہوگیا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >