زیادتی کے بعد بچی کو قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت

زیادتی کے بعد بچی کو قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت

لاہور میں قائم بچوں کے ساتھ زیادتی جیسے واقعات کی خصوصی عدالت نے 8 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد موت کے گھاٹ اتارنے والے مجرم کو موت کی سزا سنادی ہے۔

تفصیلات کے مطابق بچوں کی خصوصی عدالت کے جج وسیم احمد نے فیصلہ سناتے ہوئے مجرم پر اغوا، زیادتی اور قتل کے الزامات ثابت ہونے پر اسے مختلف دفعات کے تحت 5 لاکھ جرمانہ، 5 سال قید اور موت کی سزا سنائی، عدالت نے ہدایت کی کہ 5 لاکھ روپے مقتول بچی کے اہل خانہ کو ادا کیے جائیں اور اگر مجرم جرمانہ عائد نہ کرے تو اسے مزید 6 ماہ قید میں رکھا جائے گا۔

عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ لاہور ہائی کورٹ سے فیصلے کی توثیق کے بعد سزا پر عمل درآمد کیا جائے۔

واضح رہے کہ 2010 میں لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں رستم علی نامی گھریلو ملازم پر مقدمہ دائر کیا گیا تھا کہ اس نے اپنے مالک کی 8 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر ڈالا، جس پر پولیس کی جانب سے مارچ 2011 میں مقدمے کا چالان عدالت میں پیش کیا گیا۔

زینب سانحے کے بعد عورتوں اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے فوری ٹرائل کیلئے قائم کی گئی خصوصی عدالت میں اس کیس کو منتقل کیا گیا جہاں پر فریقین کے دلائل کو سن کر عدالت نے فیصلہ جاری کردیا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >