سنگ دل شوہر نے انشورنس کے پیسے اینٹھنے کیلئےبیوی کو آگ لگادی

لالچ انسان کو اندھا کردیتی ہے اور لالچ کے ساتھ اگر انسان میں انسانیت بھی ختم ہوجائے تو انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں رہتا، سحر خان کی کہانی بھی ایک مظلوم عورت کی ہے جو لالچی شوہر کے ہاتھوں موت کی دہلیز سے پلٹ کر واپس آئی۔

ضلع مظفر گڑھ کے علاقے علی پور کی رہائشی سحر خان کو اس کے شوہر نے لائف انشورنس کے پیسے بٹورنے کیلئے آگ لگادی، مگر وہ خوش قسمتی سے بچ نکلی۔

انڈیپنڈنٹ اردو کو دیئے گئےایک انٹرویو میں سحر خان نے بتایا کہ میں نے پسند کی شادی کی تھی، ہمارے چھ بچے ہیں، سب کچھ ٹھیک تھا ڈیڑھ گھنٹہ پہلے ہم سب ہنس رہے تھے، میں نے فیس بک پر ایک تصویر ڈال کر لکھا تھا ” ود ہبی” ۔

سحر خان نے کہا ڈیڑھ گھنٹہ بعد میری دنیا بدل گئی میرے شوہر نے مجھ پر پٹرول چھڑکا ، مجھے آگ لگائی اور دروازے کو باہر سے بند کردیا، میرے بچے باہر کھڑے مجھے دیکھ رہے تھے ، میں چلارہی تھی اور آگ سے خود کو بچانے کی کوشش کررہی تھی، آگ نے شدت اختیار کی تو میں بے ہوش ہوکر گر پڑی۔

انہوں نے کہا کہ سب نے سمجھا میں مرگئی، مگر میری چیخیں سن کر لوگ جمع ہوگئے تھے ، جب مجھے ہسپتال میں دوبارہ ہوش آیا تو میں نے پولیس کو بتایا کہ میرے شوہر نے مجھے نذر آتش کیا اور پولیس نے اسے گرفتار کرلیا۔

سحر خان اس اندوہناک سانحے کے بعد بھی ہمت کیے ہوئے ہیں اور تیزاب گردی اور آتشزدگی کا شکار ہوئی عورتوں کو زندگی کی طرف واپس لانے والے ایک ادارے ڈپلیکس سمائل اگین فاؤنڈیشن میں موجود ہیں جہاں نہ صرف ان کا علاج ہورہا ہے بلکہ انہیں سلائی اور کھانے پکانے جیسے ہنر سکھائے جارہے ہیں۔

اس ادارے کی کاوشوں سے متعلق سحر خان کا کہنا تھا کہ اس ادارے نے میرے تین آپریشن کروائے ہیں، یہاں مجھے کھانا پکانا سکھایا جاتا ہے تاکہ ہم چھوٹا سا آن لائن کاروبار شروع کرسکیں، اس کے علاوہ انہوں نے مجھے ایک سلائی مشین بھی مہیا کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ کلاسز میرے لیے کسی رحمت سے کم نہیں ہے یہاں سے سیکھ کر میں مالی طور پر اپنے بچوں کی ذمہ داریاں اٹھانے کے قابل ہوجاؤں گی، پر امید سحر کا کہنا تھا کہ میں نے ایم اے اکنامکس کیا ہے مگر مجھے کسی جگہ نوکری نہیں ملتی ایک وجہ تو یہ ہے کہ میرے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے دوسرا میرے چہرے کی وجہ سے بھی مجھے کوئی ملازمت پر نہیں رکھتا کہ لوگ میرے ساتھ کیسے نارمل رویہ رکھیں گے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >