جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کوساڑھے تین کروڑ روپے ٹیکس اداکرنے کا حکم

ایف بی آر نے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ سرینا کو ساڑھے تین کروڑ کا ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیدیا، سرینا عیسیٰ نے فیصلے کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کے بعد ان کی اہلیہ کی جانب سے سپریم کورٹ میں دیئے گئے بیان پر معاملہ ایف بی آر کے سپرد کردیا گیا تھا ۔

جس پر ایف بی آر نے164 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کردیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سرینا عیسیٰ ساڑھے تین کروڑ روپے کی ٹیکس نادہندہ ہیں، انہیں یہ ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

سینئر اینکر پرسن کامران خان کے مطابق ایف بی آر کی تحقیقات میں یہ انکشاف ہوا ہے ہے کہ مبینہ طور پر سرینا عیسیٰ لندن میں اپنی جائیدادوں سے متعلق منی ٹریل دینے میں ناکام رہی ہیں، تاہم اس فیصلے کو جسٹس فائز عیسی کے حق میں کہنے والے بھی وہی لوگ ہیں جو اس کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو بڑی کامیابی قرار دے رہے تھے، یہ سب لوگ پہلے سرینا عیسی کا بیان پڑھ لیں۔

کامران خان نے مزید کہا کہ خیال رہے کہ پینلٹی کیلئے فیصلہ آنے کے بعد اظہار وجوہ کا نوٹس بھی جاری ہوجاتا ہے، جو آگے پروسیس بھی ہوگا۔

اس فیصلے پر سرینا عیسیٰ نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر نے حکم نامے میں مجھے ساڑھے تین کروڑ کا ٹیکس نادہندہ قرار دیا ہے، مگر ایف بی آر نے یہ فیصلہ مجھے سنے بغیر دیا ہے ، میں نے بہت بار درخواست کی مگر مجھے میرے ہی ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات تک رسائی نہیں دی گئی، اس آرڈر سے پہلے ایف بی آر نے میرا کوئی بیان بھی ریکارڈ نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ تحقیقات کے دوران نہ میری زرعی زمین کو شامل کیا گیا، میری کراچی میں فروخت کی گئی پراپرٹی کو بھی تحقیقات کا حصہ نہیں بنایا اور نہ ہی میری تنخواہ کو اس فیصلے میں شامل کیا گیا۔

  • یہ فیصلہ تو ظاہر ہے ہائی کورٹ میں چیلنج ہوگا ، لیکن اچھی بات ہے یہ ہے کہ ایف بی آر نے یہ جائیدادیں قاضی فائز عیسیٰ کی بےنامی جائیدادیں قرار نہیں دیں ، یعنی اب ان جائیدادوں کا قاضی فائز عیسیٰ پر کوئی بار نہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >