کنڈکٹ پراستعفیٰ دینا پڑا توسارے وزرا کو استعفیٰ دینا پڑے گا،اسلام آباد ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سانحہ تیزگام کی شفاف تحقیقات کیلئے دائردرخواست کی سماعت کی ، وزارت داخلہ اور ریلوے نے تحقیقاتی رپورٹ پیش کی، جس میں 5 ہیڈ کانسٹیبلز کو سانحے کا براہ راست ذمہ دارقرار دیا گیا، رپورٹ میں ذمہ داران کیخلاف ضابطے کی کارروائی شروع کرنے کا بتایا گیا۔

جسٹس محسن اخترکیانی نے ریمارکس دیئے وزارت داخلہ اور ریلوے الگ الگ انکوائری کر رہے ہیں، ایک کیس کی دوسری ایف آئی آر کیسے ہوسکتی ہے، ان حالات میں کیا کمیشن کی تشکیل کا حکم دیا جا سکتا ہے؟ ، درخواست گزارنے آزادانہ تحقیقات کے حکم کی استدعا کی،درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ وزیر ریلوے کا حادثے پر جو کنڈکٹ رہا اُس پر انہیں استعفیٰ دینا چاہیے تھا۔

جس پر جسٹس نے کہا کہ اگر کنڈکٹ پر استعفیٰ دینا پڑا تو اس وقت سارے وزرا کو استعفیٰ دینا پڑے گا، استعفیٰ ہمیشہ اخلاقی بنیادوں پر دیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں ابھی اخلاقیات اس سطح تک پہنچی نہیں، سانحہ موٹر وے کی بھی ساری تحقیقات میڈیا میں ہی ہورہی ہیں، پورا پاکستان ہی اس معاملے پر تفتیشی افسر بنا ہوا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے موٹروے سانحے کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ اس میں احتیاط برتنی چاہیے جو چیزیں جس طرح ہائی لائٹ ہوتی ہیں اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

کراچی سے راولپنڈی جانے والی تیز گام ایکسپریس میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے نتیجے میں 74 مسافر جاں بحق اور 90 سے زائد زخمی ہوگئے تھے، ریلوے انتظامیہ کے مطابق حادثہ سلنڈر پھٹنے سے پیش آیا جب کہ عینی شاہدین کے ملے جلے بیانات میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹرین میں آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >