پاک فوج کے جن جوانوں کو شہید کرنے کا بھارت جھوٹ بولتا رہا وہ سب زندہ و سلامت

ویسے تو بھارت احمقوں کی وادی ہے جو کہ بد گمان اور لاعلم ہجوم پر مشتمل ہے۔ اس قوم کو ان کا میڈیا آئے روز اُلو بناتا رہتا ہے کبھی تو یہ وادی گلوان سے چین کو پیچھے ہٹانے کے جھوٹے دعوے کرتے ہیں اور کبھی پاکستانی فوج کے جوانوں کو شہید کرنے کے جھوٹے بھنڈ مارتے ہیں۔

گزشتہ سال 27 فروری 2019 کو جب بھارتی پائلٹ ابھی نندن کا طیارہ مگ 21 پاکستانی فضائیہ کے شاہین حسن صدیقی نے مار گرایا اور ابھی نندن کو گرفتار کر لیا گیا تب بھارتی میڈیا نے اپنی عوام کو یہ کہہ کر تسلی دینے کی کوشش کی کہ ابھی نندن نے ایک پاکستانی طیارہ ایف16 گرا دیا ہے جس میں پائلٹ حسن صدیقی کو شہید کر دیا گیا۔

سچ تو یہ ہے کہ حسن صدیقی کو بھارتی طیارہ مار گرانے کے انعام کے طور پر اب ونگ کمانڈر کے عہدے پر ترقی دے دی گئی اور رواں ماہ 6 ستمبر کو انہیں صدارتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔

پھر اس کے بعد بھارتی فوج نے نکیال سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کی اور اپنے میڈیا پر ڈھنڈورا پیٹ دیا کہ انہوں نے ایک پائلٹ ابھی نندن کو گرفتار کرنے والے ایس ایس جی کمانڈو کو شہید کر دیا ہے اور یہ وہی کمانڈو تھا جس نے ابھی نندن کو طیارہ گرنے والی جگہ سے گرفتار کر کے دوسری جگہ منتقل کیا تھا۔

حقیقت تو یہ ہے کہ جس فوجی جوان کے بارے میں بھارتی میڈیا اور بھارتی قوم غلط فہمی کا شکار ہے وہ ابھی بھی حیات اور ایل او سی پر اپنے فرائض ادا کر رہا ہے اس جوان کا نام نائیک عثمان ہے، اس جوان کے ساتھ کیے گئے انٹرویو کو صحافی حامد میر نے بھی ٹویٹر پر شیئر کیا تھا۔

پھر اس کے بعد بھارتی میڈیا نے ایک اور شوشہ چھوڑا کہ وہ بھارتی طیارے کے حملے کے نتیجے میں جو پاکستانی طیارہ تباہ ہوا تھا اس کو ونگ کمانڈر حیدر شہباز علی اڑا رہے تھے جن کا تعلق پاک فضائیہ کے 19ویں سکواڈرن شیر دل سے ہے۔

مگر بھارت کا یہ جھوٹ بھی بے نقاب ہو گیا کیونکہ پاک فضائیہ کے اس فلائنگ پائلٹ کے ساتھ 6 ستمبر2019 کو نجی ٹی وی چینل کی جانب سے انٹرویو کیا جا چکا ہے۔

 


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >