مودی سرکار نے چین سے مار کھا کر چین سے ہی قرضہ لے لیا

بھارتی حکومت نے خود اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وہ چین کے ساتھ بارڈر کی بندش کی صورت میں چین میں غریب ممالک کی امداد کے لیے بنائے گئے ملٹی لیٹرل ڈویلپمنٹ بینک سے 9 ہزار 202 کروڑ روپے پر مشتمل 2 بار قرض وصول کر چکے ہیں۔

ایک جانب تو چین بھارت کی مالی امداد جاری رکھے ہوئے ہے مگر دوسری جانب چین بھارتی فوجیوں کو بھی نشان عبرت بنا رہا ہے کیونکہ 15 جون کو چین نے وادی گلوان میں 20 بھارتی فوجیوں کو جہنم واصل کیا، جس کے بعد 19 جون کو پردھان منتری غریب کلیان یوجنا (پی ایم جی کے وائی) کے تحت ایشین انفرااسٹرکچر انوسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) نے بھارت کے لیے 750 ملین ڈالر (5ہزار521 کروڑ روپے) کے قرض کی منظوری دی۔ چین بیجنگ میں قائم اس کثیرالجہتی ترقیاتی بینک میں سب سے بڑا حصہ دار ہے۔

پھر29 جولائی کو بھارت نے 59 چینی موبائل ایپس پر پابندی عائد کی، نریندر مودی حکومت نے باضابطہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بھارت نے چین کے زیر کنٹرول بینک سے بارڈر کی بندش کے باعث 1،350 ملین ڈالر (9ہزار 202 کروڑ روپے) کے دو قرض لئے تھے۔

بھارتی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اے آئی آئی بی سے قرض لینے میں کوئی حرج نہیں ہے ، خاص طور پر کیونکہ ہندوستان چین کے بعد اس بینک میں دوسرا سب سے بڑا شیئر ہولڈر ہے اور نہ ہی اس مقصد کو غلط قرار دیا جاسکتا ہے۔

لیکن دوطرفہ تناؤ سے حکومت کے مالی لین دین کو جوڑنے کا عمل  ہندوستان میں چینی کاروباری تعلقات کو ختم کرنے کی پالیسی کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ ، ہندوستان کی وزارت خارجہ اس بات پر زور دے رہی ہے کہ سرحد کے ساتھ ساتھ ایک طرفہ حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی چینی کوششوں کے باوجود کاروبار معمول کے مطابق نہیں ہوسکتا۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہی قرضے بھارت کو چین کے خلاف مہم جوئی کے لیے معمولی طور پر مضبوط بھی کرتے ہیں۔ 19 جون کو وادی گلوان میں چین کی پیش قدمی کے4 دن بعد ہندوستان نے کورونا وائرس بحران سے نمٹنے کے لئے اے آئی آئی بی کے ساتھ 750 ملین ڈالر کے قرض کے معاہدے پر دستخط کیے۔ یہ وہ دن بھی تھا جب وزیر اعظم مودی نے "عدم مداخلت” کا دعوی کیا تھا یعنی مودی کے مطابق وادی گلوان میں کچھ ہوا ہی نہیں تھا اور چین نے کسی علاقے پر قبضہ نہیں کیا۔

یہ قرض بھارتی وزیراعظم کے غریب کلیان یوجنا کے بجٹ کی حمایت کے طور پر لیا گیا تھا ، یہ منصوبہ مودی حکومت نے 2016 میں شروع کیا تھا جس کے تحت کورونا وائرس سے منسلک امدادی پیکیج پیش کیے جارہے ہیں۔

پیر کے روز بھارتی پارلیمنٹ میں جونیئر وزیر خزانہ انوراگ ٹھاکر نے قرض کی تفصیلات کی تصدیق کی تھی۔ ٹھاکر نے کہا کہ ہندوستان کی حکومت نے کوویڈ19 کے بحران میں بحالی کی سہولت کے تحت ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کے ساتھ دو قرضوں کے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔ 500 ملین امریکی ڈالر کے پہلے قرض پر 8 مئی 2020 کو معاہدہ کیا گیا تھا جس سے جزوی طور پر بھارتی کورونا ایمرجنسی رسپانس اینڈ ہیلتھ سسٹم کی تیاری کے پروجیکٹ کی مالی معاونت کی جا رہی تھی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >