ماضی کی طرح اس بار بھی اپوزیشن کو شکست سے دوچار ہونا پڑے گا، کامران خان

ماضی کی طرح اس بار بھی اپوزیشن کو شکست سے دوچار ہونا پڑے گا، کامران خان

اپوزیشن ایک بار پھر حکومت گرانے کو تیار، ماضی کی طرح اس بار بھی اپوزیشن کو شکست سے دوچار ہونا پڑے گا، کامران خان

پاکستان کے سینئر صحافی و تجزیہ نگار عمران خان کا اپوزیشن کی جانب سے بلائی گئی اے پی سی پر اپنے تجزیئے میں کہنا تھا کہ کل پھر ایک دفعہ حکومت مخالف لیڈر شپ اجتماع کر رہی ہے، ایک بار پھر آپ دیکھیں گے کہ وہی گنے چنے سیاسی جوادری رائی کا پہاڑ بنانے کی کوشش کریں گے، نومبر 2019 کی طرح  حکومت کے جانے کے دن انگلیوں پر گن گن کر آپکو بتایا جائے گا۔

کامران خان کا کہنا تھا کہ مگر آپ مکمل اطمینان رکھیں نہ تب کچھ ہوا نہ ہی اب کچھ ہوگا، اس کی وجہ یہ نہیں کہ پی ٹی آئی اکثریت کے ساتھ حکومت کر رہی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ آج پاکستان میں مثالی سول ملٹری نظام کام کر رہا ہے، اس نظام میں وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف، آصف زرداری، بلاول بھٹو، دوسری جانب نواز شریف اور شہباز شریف بھی شریک ہیں، یقیناً یہ اطمینان کی بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ محض یہ اتفاق نہیں کہ نواز شریف پاکستان کی تاریخ کے پہلے سزا یافتہ مجرم نہیں ہیں جو آرام سے لندن میں رہ رہے ہیں، شہباز شریف انگنت کیسز کے باوجود کسی ذہنی یا جسمانی دقت سے دوچار نہیں ہیں، آصف زرداری اور فریال تالپور بھی نیب کی قید سے آزاد ہو چکے ہیں اور اپنے بنگلوں میں آرام سے رہتے ہیں، بلاول بھٹو کو بھی جعلی بینک اکاؤنٹس اور منی لانڈرنگ کے کیسز سے آزاد کر دیا گیا ہے۔

سینئر صحافی کامران نے اپنے تجزئیے میں مزید کہا کہ خیال رہے کہ محض یہ بھی اتفاق نہیں کہ سینیٹ میں حکومت کی اقلیت ہے لیکن اس کے باجود حکومت کا اپنا چئیرمین سینیٹ وہاں پر کام کرتا ہے، نہ کبھی بجٹ پاس ہونے میں رتِی برابر مسئلہ ہوا اور نہ ہی کسی قانون سازی میں حکومت کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

کامران خان نے عوام کو اطمینان کے ساتھ اپنے کام پر توجہ دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ تمام لوگ اپنے کام پر توجہ دیں یا نیٹ فلیکس پر کوئی فلم لگا لیں، مزے کریں، پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہے اور آگے سب اچھا ہی اچھا ہے اور یہی جمہوریت کا حسن ہے، اس میں اے پی سی بھی ہو گی، اس میں جلسے بھی ہونگے، اس میں نعرے بھی ہونگے، اس میں آوازیں بھی ہونگی، لیکن تمام پاکستانی اطمینان رکھیں۔

کامران خان کے مطابق پاکستان مضبوط ہے اور مضبوط ہی رہے گا، لیکن احتساب کا عمل کہیں جانے والا نہیں ہے، اس میں قوت بڑھتی چلی جائے گی لیکن یہ نظام ایسے ہی چلتا رہے گا۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >