سی سی پی او لاہور قبضہ مافیا کے خلاف سرگرم، 31 اکتوبر کی مہلت دیدی

سی سی پی او لاہور عمرشیخ قبضہ گروپوں کے خلاف سرگرم ۔۔ سی سی پی او کا یکم جنوری 2021 تک لاہور پولیس نیویارک جیسی پولیس بنانے کا دعویٰ

تفصیلت کے مطابق سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی سربراہی میں پولیس افسران کا اجلاس ہوا جس میں امن و امان کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے پولیس کو اشتہاری قبضہ گروپ ملزمان کی گرفتاری کے لیے 31 اکتوبر تک کی مہلت دے دی۔

Lahore: Grand operation will start soon against land mafia

Lahore: Grand operation will start soon against land mafia

Posted by 92 News HD Plus on Saturday, September 19, 2020

سی سی پی او کا کہنا تھاکہ سابقہ ریکارڈ یافتہ ملزمان کے خلاف آپریشن کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے، قبضہ مافیا معاشرے کا ناسور ہیں۔ لاہور میں اس وقت 3000 کے قریب قبضہ گروپ اور اشتہاری ہیں۔

سی سی پی او نے پولیس افسران کو وارننگ دی کہ اگر کسی نے غفلت برتی تو اسکے خلاف سخت کاروائی ہوگی، انہوں نے اپنے اردگرد جرائم پیشہ افراد پر کڑی نظر رکھنے کا حکم دیا

انہوں نے دعوٰی کیاکہ یکم جنوری 2021 تک لاہور پولیس،نیویارک پولیس بن جائے گی۔انکا کہنا تھا کہ تفتیش اور سمارٹ پولیسنگ کا طریقہ کار وہی استعمال کیا جائے گا جو ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ سی سی پی او لاہور تعینات ہونے والے عمر شیخ مسلسل خبروں اور تنازعات کی زد میں ہیں۔ تعیناتی کے آغاز میں ہی ان کے سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر سے اختلافات سامنے آئے جس کے بعد آئی جی پنجاب کو تبدیل کردیاگیا، بعد ازاں موٹر وے زیادتی کیس میں متنازع بیان پر انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑاجس کے بعد انہیں اپنے بیان پر معافی مانگنی پڑی۔

سی سی پی او لاہور عمر شیخ کی تعیناتی پر ن لیگ نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور اسے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔ سی سی پی او کے خلاف ن لیگ کی اعلیٰ قیادت جس میں مریم نواز اور شہبازشریف ہیں، بیانات دے چکے ہیں۔ ن لیگ کا دعویٰ ہے کہ سی سی پی او لاہور کو لانے کا مقصد ن لیگ کے خلاف انتقامی کاروائیاں کرنا ہے۔

ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق کیپٹن صفدر سی سی پی او لاہور کو دھمکیاں دے چکے ہیں جس کا سی سی پی او لاہور نے سخت ردعمل دیا ۔ جس کے بعد ن لیگ مسلسل سی سی پی او لاہور کو ہٹانے کا مطالبہ کررہی ہے اور انہیں ہٹانے کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کررکھا ہے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق عمر شیخ کی بطور سی سی پی او لاہور تعیناتی کا مقصد لاہور اور اسکے گردونواح میں موجود قبضہ گروپوں اور ریکارڈیافتہ جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن کرنا ہے،ذرائع نے دعویٰ کیا کہ سی سی پی او لاہور نے تعینات ہوتے ہی قبضہ گروپوں پر ہاتھ ڈالا تو آئی جی شعیب دستگیر نے انہیں ہاتھ ہلکا رکھنے کا مشورہ دیا اور بعدازاں دونوں میں اختلافات شدید ہوگئے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>