گوجرانوالہ:اے ایس آئی نے اوباشوں کے خلاف مددکیلئے آئی لڑکی کوزیادتی کانشانہ بنادیا

گوجرانوالہ میں اوباش نوجوانوں کے خلاف درخواست دینا بیٹی کو مہنگا پڑگیا، پولیس افسر نے انکوائری کے بہانے بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بناڈالا۔ متاثرہ لڑکی میڈیا پر بات کرتے ہوئے دھاڑیں مار مار کروتی رہی

تفصیلات کے مطابق لڑکی اور اسکےباپ نے اوباش افراد کیخلاف تھانہ اروپ میں درخواست دی، دوران تفتیش اے ایس آئی نے ہی مبینہ طور پر لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنادیا۔

گوجرانوالہ کے اروپ تھانہ میں لڑکی نے اوباش افراد کی طرف سے جھگڑے کے دوران کپڑے پھاڑنے کی درخواست دی ، جس پر اے ایس آئی مبشر کو انکوائری آفیسر مقرر کیا۔ جھگڑے کا واقعہ تھانہ اروپ کے علاقے بسمہ اللہ کالونی میں 9 ستمبر کو پیش آیا۔

تھانیدار نے بجائے اوباش نوجوانوں کے خلاف کاروائی کرنے کے مدد کیلئے آئی لڑکی کی ہی عصمت دری کردی۔ مبینہ زیادتی کا شکار لڑکی کو میڈیکل کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

پولیس کے اعلیٰ افسران اے ایس آئی مبشر کو بچانے کیلئے متحرک ہوگئے اور لڑکی پر بیان سے منحرف ہونے کیلئے دباؤ ڈالا جانے لگا۔ جس پر لڑکی نے پولیس کے روئیے سے تنگ آکر متاثرہ لڑکی نے انصاف کے لیے سی پی او گوجرانوالہ کو درخواست دے دی۔

متاثرہ لڑکی اور اسکی والدہ اپنے ساتھ ہونیوالے ظلم پر دھاڑیں مار مار کر روتی رہی۔ لڑکی نے بتایا کہ اے ایس آئی نے مجھے زیادتی کا نشانہ بنایا اور مجھے بہن کہہ کر بلاتا رہا

متاثرہ لڑکی نے انصاف کے لیے سی پی او گوجرانوالہ کو درخواست دے دی، سی پی او رائے بابر نے ایس پی صدر اور ایس پی سول لائن کو انکوائری کا حکم دیا لیکن پولیس کے متعدد افسران پیٹی بھائیوں کو بچانے کے لیے سرگرم ہوگئے۔

  • From KPK police reforms first kicked out all curropt police black sheeps, then all reforms work better than anywhere else in Pakistan. Same thing Punjab Sindh Balochistan all over need police reforms as soon as possible.

  • جب بھرتیاں۔۔رشوت اور سفارش کی بناء پر ہوں اور جمہوری حکومت نا اہل اور جعلی سرٹیفکیٹ ۔ڈگری والوں کو پوسٹیں فروخت کرے تو معاشرے میں یہی ہوگا


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >