سیاسی رہنماؤں کی آرمی چیف سے ملاقات میں کیا بات ہوئی؟ شیخ رشید کے انکشافات

وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد نے  چار روز قبل پارلیمانی رہنماؤں سے ہونے والی آرمی چیف کی ملاقات کی اندرونی کہانی بتاتے ہوئے کہا کہ آرمی چیف سے ہونے والی ملاقات میں بلاول بھٹو، سراج الحق ، اسعد الرحمان ، شہباز شریف سمیت پندرہ سے بیس لوگ موجود تھے۔

شیخ رشید نے کہا کہ پارلیمانی رہنماؤں سے ملاقات میں آرمی چیف نے کہا کہ میں ایک بات واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے، ہمیں جو بھی منتخب حکومت بلائے گی ہم ان کا ساتھ دیں گے، ملاقات میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید بھی موجود تھے۔

آرمی چیف نے ملاقات میں کہا کہ آپ لوگوں نے خود نیب کا چیئرمین لگایا یہ اب آپ لوگوں کے کیسز ہیں، آپ لوگوں نے ہی متفقہ طور پر چیف الیکشن کمشنر لگایا اور گلگت بلتستان کو صوبہ الیکشن سے پہلے بنانا ہے یا بعد میں یہ آپ لوگوں کا مسئلہ ہے، جس پر وہاں پر موجود پارلیمانی رہنماؤں میں سے کچھ نے الیکشن سے پہلے اور کچھ نے الیکشن کے بعد صوبہ بنانے کی تجویز دیدی۔

شیخ رشید کا خبر رساں ادارے کے نمائندے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ آرمی چیف نے تمام پارلیمانی رہنماؤں پر یہ بھی واضح کردیا تھا کہ پاکستان کی سلامتی اور سکیورٹی پر پاک فوج کبھی بھی سمجھوتا نہیں کرے گی اور غیرملکی سازشوں کا آپ لوگوں کے ساتھ مل کر ڈٹ کر مقابلہ کرے گی، لیکن یہ نہ کہا جائے کہ ہر معاملے میں فوج ملوث ہے، گلگت بلتستان میں ہونے والے الیکشنز کی جا کر تمام لوگ تیاری کریں اور تقاریر کریں ہم لوگ کسی بھی مسئلے میں نہیں آئیں گے، تاہم پاکستان کے خلاف اگر کوئی سازش ہوگی تو ہم اسے کچل کر رکھ دیں گے۔

شیخ رشید کا ایک سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ نوازشریف ایک احسان فراموش آدمی ہے، ضیاءالحق کے جوتوں میں پل کر جوان ہونے والا  ووٹ کو عزت دو کی بات کرے، لیکن وہ نوٹ کو عزت دو کے ساتھ ووٹ کو ملانا چاہتا ہے، نواز شریف نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی سیاست کا صفحہ مٹا دیا ہے اور اب پاکستان میں اس کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئی ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >