بھارت اور بنگلہ دیش کورونا کی لپیٹ میں، پاکستانی ٹیکسٹائل سیکٹر پردباؤ بڑھ گیا

ایسے وقت میں جب پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں کورونا وبا کی وجہ سے برآمدی آڈرز کم ہو رہے ہیں تو وہیں پاکستان کے گارمنٹس سیکٹر کو برآمدات کے بڑے آرڈر مل رہے ہیں۔ مگر کپاس کی کمی سے گارمنٹ سیکٹر کو دھاگے کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

بھارت اور بنگلہ دیش کورونا وبا سے متاثر ہونے کے بعد وہاں کی گامنٹس انڈسٹری ابھی تک اس حالت میں واپس نہیں آئی کہ وہ یورپی اور امریکی منڈیوں میں اپنے سامان کی ترسیل کو یقینی بنا کر منافع کما سکیں۔

اسی وجہ سے اس وقت انڈسٹری کی پروڈکشن کا تمام تر دباؤ پاکستان کی ٹیکسٹائل ایکسپورٹ پر ہے۔ مگر گارمنٹس سیکٹر کو ملنے والے آڈرزکے لیے درکار خام مال خصوصاً دھاگے کی کمی نے برآمد کنندگان کو پریشان کر دیا ہے۔

صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ ہمیں تشویش ہے کہ کاٹن آہستہ آہستہ ناپید ہو گئی تو ہمارے لیے حالات مزید خراب ہو جائیں گے۔ ان صنعتکاروں کے مطابق کلائنٹ شپمنٹ کے لیے 35 سے 40 روز دیتا ہے لیکن آج ہم دھاگا لینے جائیں تو ملز ہمیں 3،4 مہینے کا ٹائم دے رہی ہیں۔

ایکسپورٹرز کو خدشہ ہے کہ اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو نہ صرف مسابقتی ممالک کے آڈرز پاکستان منتقل ہونا رک جائیں گے بلکہ مقامی صنعتکار مستقل خریداروں سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

  • Dhaga is not a big deal. Even air lifting can be carried out if necessary…………Exporters must spend something from their pocket as well…….Yeh achi blackmailing hai k har cheez Government py dal do……………Shukar hai sirf bachy paida log khud karty hain………………………..

  • اور گنا چوپو ، پین چود پہلے روتے تھے کہ کام نہی ھے ، اب کتی کے بچے رو رھے ھین کہ کام بہت ذیادہ ، رنڈی کے بچو خود بھی تو کچھ کیا کرو سواۓ بجلی اور ٹیکس چوری کے

  • If government remove support price from sugar and allow sugar import instead and give support price on cotton and soyabean . That will work , pakistan could import sugar of $1 billion but save import of edible oil + cotton industry + lots of water


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >