کمسن گھریلو ملازمہ قتل کیس: لواحقین نے ملزمان کو بچی کا قتل معاف کر دیا

کمسن گھریلو ملازمہ قتل کیس: لواحقین نے ملزمان کو بچی کا قتل معاف کر دیا

سیشن کورٹ لاہور میں کم سر گھر یلو ملازمہ کے قتل کیس کی سماعت شروع ہوئی تو 15 سالہ ثناء کے لواحقین نے ملزمان کو اپنی بچی کا قتل معاف کرنے کا اعلان کر دیا اور عدالت سے درخواست کی کہ ڈاکٹر حمیرا اور ان کے شوہر کو رہا کر دیا جائے۔

کیس کی سماعت کرتے ہوئے سیشن کورٹ لاہور کے ایڈیشنل جج عمران شفیع نے مقتولہ 15 سالہ ثناءکے لواحقین کے بیانات قلمبند کیے، جس میں بچی کے لواحقین نے کہا کہ ہم ملزمان کو اللہ کی رضا کی خاطر قتل معاف کرتے ہیں اسی لیے عدالت دونوں ملزمان کو قتل کے مقدمے سے بری کر دے۔

دوسری جانب مقدمے کی تفتیشی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تھانہ چوہنگ میں ملزمہ ڈاکٹر حمیرا اور ان کے شوہر کے خلاف قتل کا مقدمہ درج ہے کہ انہوں نے گھر میں کام کرنے والی 15 سالہ گھریلو ملازمہ ثنا کو تشدد کر کے قتل کر دیا ہے۔ دونوں ملزمان نے پہلے ہی ضمانتیں کروا رکھی تھیں۔

واضح رہے کہ جنوری 2020 میں لاہور کے چوہنگ کے علاقے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں 15 سالہ گھریلو ملازمہ ثناء کو تشدد کے بعد قتل کردیاگیا جس کے بعد پولیس نے ملازمہ پر تشدد اورقتل کے الزام میں ڈاکٹر حمیرا اور اس کے شوہر جنید کو گرفتار کرلیا تھا۔

پولیس کے مطابق مقتولہ بچی ثناء کواس کے والدین نے 15روز قبل ڈاکٹر حمیرا کے گھر کام پر رکھوایاتھا۔

  • Khonmaaf karne ka jawaz hi khatm kar den chahye. Qatl chonke aik muashrti jurm he jo muashre aur mahol ko khatre mein dalta he, to iska muqadma hmesha state ki madyat mein banna chahye- Phir koi amirzada ksi gharib ko dara kar qatl maf nhi krwae ga.

  • Yes..they have the right to forgive them..on what grounds…paisay le kar ya Allah ke naan par…lekan dar aur khouf se nahi…Thiers daughter was killed..if they want to forgive Thiers daughter blood..no body stop them..they are the suffering not me and others..


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >