بلدیہ فیکٹری کےمالک نے ایم کیوایم اورحکومتی عہدیداروں کے گٹھ جوڑ کاپردہ فاش کردیا

7 سال قبل کراچی میں پیش آنے والے سانحہ بلدیہ فیکٹری نے کراچی کے شہریوں کے ذہنوں پر انمٹ نقوش چھوڑے ہیں کہ کس طرح مزدوروں نے اپنی جانیں گنوائیں اور کیسے ابھی تک فیکٹری مالکان کے حقوق اور پروٹوکول کا خیال رکھا جا رہا ہے۔

اس واقعہ میں 250 سے زائد افراد کی جانیں گئیں اور ان کے بعد ان کے اہل خانہ کی انصاف کے لیے ہونے والی چیخ وپکار کی گونج کم ہوتی دکھائی نہیں دیتی۔

لیکن انسداد دہشت گردی کی عدالت میں اس کیس کی سماعت کے دوران سامنے آنے والے حقائق سراسر ایک داستان بیان کرتے ہیں کہ کس طرح ظلم و ستم ، لالچ اور مجرمانہ غفلت جس میں حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں سے لے کر ایک سیاسی جماعت کے عسکریت پسند ونگ تک کے لوگ شامل تھے۔

جمعرات کو فیکٹری کے مالک ارشاد بھائیلہ نے دبئی میں پاکستانی سفارت خانے سے ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان انسداد دہشت گردی کی خصوسی عدالت کو ریکارڈ کرایا
ارشد بھائیلہ نے اس وقت کے گورنر سندھ عشرت العباد خان ، سی پی ایل سی کے سابق سربراہ احمد چنائے اور متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کی قیادت کے مابین گٹھ جوڑ کی خطرناک تفصیلات بتائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ منصور نامی شخص کو 2004 میں فیکٹری میں جنرل مینیجر بھرتی کیا گیا اور اسی سال ایم کیو ایم کا بھتہ بھی شروع ہوگیا۔ ایم کیو ایم کو 15 سے 25 لاکھ روپے بھتہ جاتا تھا۔ منصور نے ہی ایم کیو ایم سے معاملات طے کرائے اور وہ ہی یہ رقم دینے جاتا تھا اور فیکٹری مالکان کو یہ جواز پیش کیا ہے کہ اگر وہ کراچی میں کام کرنا چاہتے ہیں تو اس پارٹی کو مطمئن رکھنا ہوگا۔

12 جولائی 2012 کو اصغر بیگ کی جگہ رحمان بھولا کو بلدیہ کا سیکٹر انچارج لگایا گیا۔ رحمان بھولا نے حماد صدیقی کی ایما پر 25 کروڑ بھتہ اور فیکٹری میں حصہ مانگا۔ ارشد بھائیلہ کے مطابق انہوں نے منصور کو بھتے کے معاملات دیکھنے اور ایک کروڑ روپے دے کر معاملہ نمٹانے کو کہا۔ ایم کیوایم کی جانب سے مسلسل تنگ کیا جانے لگا۔ ان حالات میں کاروبار بنگلہ دیش منتقل کرنے کے لیے وہاں کا دورہ کیا۔

ارشد بھائیلہ نے بتایا کہ11 ستمبر 2012 کی شام فیکٹری سے نکلتے ہوئے اکاؤنٹنٹ نے بتایا کہ آگ بھڑک اٹھی ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اس شدت کی آگ کبھی نہیں دیکھی تھی۔ فائر فائر ڈیپارٹمنٹ کا عملہ لگ بھگ ایک گھنٹے کے بعد فیکٹری پہنچا لیکن ان کے پاس آگ بجھانے کے لئے پانی موجود نہیں تھا۔ انہوں نے عدالت کو بتایا ، میں نے فائر ڈیپارٹمنٹ کے عملے کو فیکٹری کے ہائیڈرنٹ کا پانی استعمال کرنے کی پیش کش کی لیکن انہوں نے اس سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنا کام کرنے دو۔

ارشد بھائیلہ نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت عدالت کمیشن سے درخواست پر فیصلے اور اس کے اخراجات سے متعلق بھی معاملات طے ہوئے اور اہم ان 250 سے زائد متاثرہ خاندانوں کو راشن اورمالی امداد فراہم کرتے رہے۔ کیس کے لیے ایڈووکیٹ نعمت اللہ رندھاوا کو وکیل کیا تو انہیں بھی کچھ دیر بعد قتل کر دیا گیا۔

2013 میں ارشد بھائیلہ کے چچا کو اغوا کیا گیا اور 70 دن تک وہ اغواکاروں کے قبضے میں رہے، سی پی ایل سی کے سابق سربراہ احمد چنوئے خود اس معاملے کو دیکھ رہے تھے اور انہوں نے ہمیں اغوا کاروں کے ساتھ معاملات طے کرنے کو کہا، جس کے بعد ہم نے تاوان کی رقم ادا کر کے چچا کو بازیاب کرایا۔

2015 تک بھائیلہ خاندان کے افراد کراچی میں ہی رہ رہے تھے جب سندھ ہائیکورٹ میں رینجرز کی جانب سے جے آئی ٹی رپورٹ پیش کی گئی تو اس میں بدعنوانی سامنے آئی جس کے بعد انہوں نے اپنے خاندان کو دبئی منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔

ضمانت حاصل کرنے کے بعد ایم کیوایم نے انہیں دوبارہ تنگ کرنا شروع کر دیا تو بھائیلاز نے سوچا کہ کیوں نہ ایم کیوایم کے ساتھ معاملات کو طے کر لیا جائے تبھی ان کی ملاقات علی قادری نامی ایک شخص سے ہوئی جس کو 59.8 ملین روپے دیئے۔ پھر جب ان پیسوں کی تقسیم کے بارے میں پوچھا تو علی قادری نے کوئی جواب نہ دیا۔

ارشد بھائیلہ نے بتایا کہ پھر گورنر عشرت العباد نے احمد چنائے کے توسط سے پیغام بھیجا کے متاثرہ خاندان میں 5 لاکھ روپی تقسیم کیے جا سکتے ہیں مگر وہ ایم کیو ایم کی جانب سے بتائے جائیں گے اگر وہ رضا مند ہیں تو بتائیں۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سابق ایم این اے سلمان مجاہد بلوچ نے بھی ان سے جیل میں ملاقات کی اور انہیں کہا کہ اسے بطور کونسل اپنے ساتھ رکھیں وہ ان کے کام آئیں گے۔

ارشد بھائیلہ کے مطابق 2005 میں منصور نے زبیر عرف چریا کو فیکٹری کے فنشنگ ڈپارٹمنٹ میں بھرتی کیا۔ زبیر چریا ایم کیوایم بلدیہ سیکٹر کے انچارج اصغر بیگ کے چھوٹے بھائی کا گہرا دوست تھا۔ 12 جولائی 2012 کو اصغر بیگ کی جگہ رحمان بھولا کو بلدیہ کا سیکٹر انچارج لگایا گیا۔ رحمان بھولا نے حماد صدیقی کی ایما پر 25 کروڑ بھتہ اور فیکٹری میں حصہ مانگا۔
ارشد بھائیلہ نے بتایا کہ ہم بھتہ دینے کی بجائے متبادل راستوں سے فیکٹری جاتے رہے اور گاڑیاں بھی بدلتے رہتے۔ عدالتی بیان میں ارشد بھائیلہ نے کہا کہ 11 ستمبر 2012 کوجب آگ لگی۔ اس وقت کے چیف سی پی ایل سی احمد چنائے نے رشتہ دار کے ذریعے پیغام بھیجا کہ فیکٹری میں رہنا مناسب نہیں۔ اس پر ہم رشتہ داروں کے ہاں چلے گئے۔

انہوں نے کہا کہ بعد میں ایم کیوایم کے کارکنوں نے فیکٹری کا کنٹرول سنبھال لیا اور کسی کو اندر نہیں جانے دیا ۔بعد میں ملازم نے بتایا کہ جب آگ لگی تو زبیر چریا چار، پانچ اجنبی افراد کے ساتھ کینٹن میں بیٹھ کر چرس پی رہا تھا۔ 24 گھنٹوں میں ہمارے نام ای سی ایل میں شامل کردیے گئے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بھائیلوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور انہیں اصلی مجرم کے طور پر پیش کیا گیا۔ بھائیلا نے کہا ہم نے لاڑکانہ کی ایک عدالت کے ذریعے ضمانت حاصل کی اور پولیس تفتیش کا حصہ بن گئے۔

بیان ریکارڈ کرانے کے بعد اسکائپ کے ذریعے ہی ملزمان کی شناخت پریڈ کرائی گئی ارشد بھائیلہ نے 2 ملزموں کے علاوہ رحمان بھولا، زبیر چریا اور دیگر تمام ملزموں کی شناخت کی، ارشد بھائیلہ سے جب رؤف صدیقی کے بارے میں پوچھا گیا کہ وہ ان کو کیسے جانتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ اسے میڈیا کے توسط سے جانتے ہیں اور کچھ نہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >