نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو عسکری قیادت سے ملاقات کرنے سے روک دیا

نواز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو عسکری قیادت سے ملاقات کرنے سے روک دیا

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف نے اپنی پارٹی لیڈران کو ذاتی و جماعتی حیثیت میں عسکری قیادت سے ملاقاتوں سے روک دیا۔

چند روز سے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی جانب سے عسکری قیادت سے ملاقاتوں کے چرچے ہیں، اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس کے بعد پہلے شہباز شریف اور دیگر سینئر پارٹی رہنماؤں کی آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی سے ملاقات کی خبریں میڈ یا کی زینت بنیں۔

جس پر شہباز شریف نے کہا کہ یہ گلگت بلتستان کے معاملے پر پارلیمانی رہنماؤں کااجلاس تھا جس کے بعد ایک صحافی کی جانب سے یہ خبر لیک ہوئی کہ نواز شریف کے ایک نمائندے نے آرمی چیف سے ملاقات کی ہے جس میں انہوں نے نواز شریف اور مریم نواز کیلئے ریلیف مانگا ہے۔

گزشتہ روز اس ملاقات کی تصدیق ڈی جی آئی ایس پی آر نے کی اور بتایا کہ مسلم لیگ ن کے رہنما محمد زبیر نے 2 بار آرمی چیف سے ملاقات کی جس میں نواز شریف اور مریم نواز سے متعلق بات ہوئی۔

محمد زبیر نے اسے ذاتی حیثیت میں ہوئی ملاقات قرار دیا تاہم آج ہی شیخ رشید نے مزید سیاسی لیڈران کی عسکری قیادت سے ملاقاتوں کا انکشاف بھی کیا۔

مسلم لیگ ن اس حوالے سے شدید دباؤ کا شکار تھی کہ اس کی ملک میں موجود قیادت کی جانب سے عسکری قیادت سے ملاقاتوں اور ان میں نواز شریف اور مریم کیلئے این آر او مانگنے کی افواہیں گردش کررہی ہیں۔

اس تاثر کو زائل کرنے کیلئے مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ حالیہ واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض ملاقاتوں کو چھپا کر بعض کی تشہیر کرکے انہیں مرضی کے معنی پہنائے جاتے ہیں، یہ کھیل بند ہونا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں اپنی جماعت کو ہدایات دیتا ہوں آئین کے تقاضوں اور مسلح فوج کے حلف کی پاسداری یاد کروانے کیلئے آئندہ ہماری جماعت کا کوئی رکن انفرادی، جماعتی یا ذاتی سطح پر عسکری اور متعلقہ ایجنسیوں کے نمائندوں سے ملاقات نہیں کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ قومی دفاع اورآئینی تقاضوں کیلئے ضروری ہوا تو قیادت کی منظوری کے ساتھ ایسی ملاقاتیں اعلانیہ ہوں گی اور یہ خفیہ نہیں رکھی جائیں گی۔

 


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >