سندھ میں جبری مذہب تبدیلی کے واقعات بڑھ گئے ہیں، نورالحق قادری

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کا قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور میں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہنا تھا کہ سندھ کے 2، 3 اضلاع ایسے ہیں جہاں پر جبری مذہب تبدیلی کے واقعات زیادہ ہو رہے ہیں، مذکورہ اضلاع کی انتظامیہ کو اسلام آباد میں طلب کر کے اس بارے میں پوچھا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ وزارت مذہبی امور کی ایک کمیٹی جبری مذہب تبدیلی پر کام کر رہی ہے، جبری مذہب تبدیلی کے واقعات پر پہلے رپورٹ لی جائے پھر اس پر غور کیا جائے۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نورالحق قادری کا واضح طور پر کہنا تھا کہ پورے ملک کے لیے ایک ہی تعلیمی نصاب بنایا جائے گا، پہلی کلاس سے لے کر چھٹی کلاس تک کے نصاب میں ایسا کوئی بھی مواد شامل نہیں کیا جائے گا جو مذہبی منافرت کا سبب بن سکے، اقلیتی کمیشن کا چیئرمین وزیراعظم عمران خان کی خواہش پر اقلیتی رکن کو بنایا گیا ہے۔

دوسری جانب سے سینیٹر عبدالغفور حیدری کی سربراہی میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کا اجلاس ہوا، جس میں ن لیگ کے جاوید عباسی کا تجویز کردہ اقلیتوں کے مذہبی حقوق کا بل 2020 پیش کیا گیا، جسے قائمہ کمیٹی نے کثرت رائے سے مسترد کر دیا، عبدالغفور حیدری کا بل مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کسی کو بھی جبری مذہب تبدیلی کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ مرضی سے مذہب تبدیلی پر کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

سینیٹر عبدالغفور حیدری نے کہا کہ اقلیتوں کے مذہبی حقوق کا بل 2020 اقلیتوں کے حقوق پر قائم سینیٹ کی کمیٹی میں زیر بحث لایا جا سکتا ہے، انہوں نے کہا ہمارے تعلیمی نصاب میں سے اسلامی تعلیمات کا مواد ایک ایک کر کے نکالا جارہا ہے، ہمارے تعلیمی نصاب سے ظاہر ہونا چاہئے کہ یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے، ہمارے ملک کا پہلا وزیر قانون بھی ہندو تھا جو قائداعظم کے تصور کے ساتھ ایک مذاق تھا۔ ہمارا آئین ہماری قانون سازی سے مسخ نہیں ہونا چاہیے۔

عبدالغفور حیدری کا سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مذہبی امور کی صدارت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ امریکہ کی طرف سے اسلامی ممالک پر دباؤ ہے، ان میں سے کچھ اسلامی ممالک دباؤ زیادہ اور کچھ کم لیتے ہیں، اسی طرح ہم بھی دباؤ میں آ جاتے ہیں، سعودی عرب پر بھی نماز کے دوران جہاد کی آیات کی تلاوت نہ کرنے کا دباؤ ہے، سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں پیش کیا گیا مسلم خاندانی قوانین ترمیمی بل 2020 بھی کثرت رائے سے مسترد کر دیا گیا، مذکورہ بل کی مخالفت وزارت قانون، وزارت انسانی حقوق اور وزارت مذہبی امور نے بھی کی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >