صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے مقدمات کی حقیقت سامنے آگئی

صحافیوں کے خلاف ایف آئی اے مقدمات کی حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپس میں ایک پیغام وائرل ہورہا تھا جس میں کہا جارہا تھا کہ ایف آئی اے کی جانب سے چند صحافیوں سمیت 49 سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں، یہ بے بنیاد خبر نامعلوم افراد کی جانب سے پھیلائی گئی۔

تفصیلات کے مطابق بہت سے صحافیوں کی جانب سے واٹس ایپ گروپس اور ٹویٹر پر یہ پوسٹ کی گئی، مبشر علی زیدی بھی ان میں سے ایک ہیں انہوں نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ پاکستان میں آج صحافیوں اور سوشل میڈیا ایکٹیوسٹس کے خلاف کریک ڈاؤن ہوا ہے، ایف آئی اے نے 49 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے ہیں، ان افراد میں عمر چیمہ، اعزاز سید، مرتضی سولنگی، عمار مقصود، اسد علی طور اور بلال فاروقی بھی شامل ہیں۔

نجی خبر رساں ادارے کی نامہ نگار مونا خان نے اس خبر پر تحقیق کی، ان کی رپورٹ کے مطابق ایف آئی اے کے اسلام آباد، راولپنڈی میں دفاتر سے اس بارے میں پوچھا گیا تو جواب ملا کہ ایسا کوئی معاملہ زیر غور نہیں ہے اور نہ ہی ایسی کوئی پریس ریلیز سامنے آئی ہے۔

مونا خان کی رپورٹ کے مطابق جن صحافیوں کے خلاف مقدمات کی خبریں گردش کررہی ہیں ان سے جب پوچھا گیا تو انہوں نے بھی اس پیغام سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں کسی مقدمے کے اندراج یا کسی انکوائری کی خبر نہیں ہے نہ ایف آئی اے کی جانب سے انہیں کوئی نوٹس موصول ہوا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >