مسابقتی کمیشن کی جہانگیر ترین کی شوگر ملز کے لاہور آفس پر چھاپہ، اہم ریکارڈ ضبط

 

مسابقتی کمیشن پاکستان نے لاہور میں جہانگیر ترین کی شوگر مل کے ہیڈ آفس پر چھاپا مارا اور اہم ریکارڈ ضبط کر لیا۔ مسابقتی کمشین کے مطابق خدشہ ہے کہ جہانگیر ترین کی شوگر ملز یعنی جے ڈبلیو ڈی گروپ مسابقتی ایکٹ 2010 کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا ہے۔

مسابقتی کمیشن پاکستان کے مطابق پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) پر بھی چھاپہ مارا گیا اور تلاشی کے دوران پی ایس ایم اے کے عہدیداران اور جہانگیر ترین کی شوگر ملز کے حکام کے مابین واٹس ایپ پیغامات، حساس معلومات خطوط اور ای میلز کے تبادلے کا ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا گیا ۔

اس ریکارڈ سے پی ایس ایم اے اور اس شوگر ملز گروپ کے سینئر حکام کے درمیان ای میلز کے تبادلے کا سراغ بھی ملا۔

جو حساس تجارتی معلومات جیسا کہ ملز اور ضلع کی سطح پرشوگر سٹاک پوزیشن ، حتی کہ گنے کی کرشنگ کی مقدار ، چینی کی پیداوار، ریکوری کا تناسب ، چینی کی گزشتہ پیداوار، چینی کی فروخت کی مقدار اور اس کے تناسب سے متعلق تھیں۔

پی ایس ایم اے کے واٹس ایپ گروپ کے جائزے سے پتہ چلا کہ شوگر مل گروپ کا یہی سینئر افسر چینی کی قیمت اور سٹاک سے متعلق ڈیٹا کے سلسلے میں مسلسل رابطے میں تھا۔

پی ایس ایم اے (پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن) سے قبضہ میں لیے گئے ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس شوگر ملز گروپ کا یہی سینئر افسر 2012 سے جب ان کو پی ایس ایم اے کی جانب سے چینی سٹاک پوزیشن کے لئے فوکل پرسن تعینات کیا گیا تھا ، شوگر انڈسٹری سے متعلق حساس معلومات کے سلسلے میں مسلسل رابطے میں تھا۔

ایف آئی اے تحریک انصاف کے رہنما سے پاکستان کے شوگر بحران کی تحقیقات کر رہی ہے۔ جہانگیر ترین نے جمعرات کو ایف آئی اے کو جواب جمع کرایا جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کی شوگر ملز نے تین سالوں میں 200 ارب روپے بنائے۔ اس رقم میں سے گنے کے کاشتکاروں کو 81 ارب روپے ادا کیے گئے۔

جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز تین یونٹس پر مشتمل ہے ، ان میں سے دو جنوبی پنجاب کے رحیم یار خان میں واقع ہیں اور ایک گھوٹکی یعنی سندھ میں واقع ہے۔ یہ گروپ ملکی چینی کی مجموعی پیداوار کا 17 فیصد دیتا ہے۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >