زیادتی کے مقدمات میں اب ریاست مدعی ہو گی،سمجھوتہ نہیں ہو پائے گا،شیریں مزاری

وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ سرعام پھانسی کی سزا کے حق میں ہیں جبکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس کے خلاف بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرعام پھانسی کے خلاف سپریم کورٹ فیصلہ دے چکی ہے اور ہمارے ملک کے دیگر اقوام عالم سے معاہدے ہیں جن کے تحت ہم سرعام پھانسی کا قانون نہیں لا رہے۔

اب ریپ کیسز میں ریاست مدعی بنے گی جس کے تحت متاثرہ خاندان آپس میں سمجھوتہ نہیں کرپائیں گے، شیریں مزاری

اب ریپ کیسز میں ریاست مدعی بنے گی جس کے تحت متاثرہ خاندان آپس میں سمجھوتہ نہیں کرپائیں گے، شیریں مزاری

Posted by DawnNews on Friday, September 25, 2020

وفاقی وزیر نے کہا کہ پہلے سے ہی ہمارے ملک میں اجتماعی زیادتی کے مجرم کی سزا موت ہے مگر پہلے اس طرح ہوتا تھا کہ فریقین آپس میں سمجھوتہ کر لیتے تھے جس کے باعث عدالتیں زیادتی کے ملزمان کو سزائیں نہیں دے سکیں۔

شیریں مزاری نے واضح کیا کہ اب مقدمے میں ریاست بھی مدعی بنے گی جس کے باعث فریقین صلح نامہ نہیں کر سکیں گے اور ملزموں کو قرار واقعی سزا دی جا سکے گی۔

  • It should be done in case of murder or homicide case too. Poor household working kids are murdered, their parents takes small amount of money and forgive them the killers. State should file the case and give them deserving sentence to murderers and killers.

  • The state being the complainant in the rape cases is a good step. You should start by lodging a case against Talal Choudhry. He was harassing a female MNA. He should not be let go and made an example. No political pressure should come in the way of justice.

  • ان جاہلوں جو کوئی بتائے کہ ان معاملات میں جب مقدمہ عدالت کے سامنے آ جائے تو پھر اللہ کی مقرر حد لگتی ہے اور اللہ کی حد میں کوئی معافی اور صلح صفائی کا معاملہ نہیں ہوتا ورنہ چیخنا نہیں چاہیے کہ ہم سے زیادتی ہو گی ہے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >