ٹک ٹاک اور اس جیسی دیگر موبائل ایپس پر وزیراعظم پابندی لگانا چاہتے ہیں،وزیر اطلاعات

وزیر اطلاعات شبلی فراز نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ مغرب میں گزارہ ہے لہٰذا وہ ہماری سماجی و ثقافتی اقدار کو سمجھتے ہیں، جن کے تحفظ کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔

شبلی فراز نے ایک انگریزی اخبار کو انٹرویو کے دوران کہا کہ وزیر اعظم نے ایک یا دو بار نہیں بلکہ بارہا اس معاملے پر مجھ سے بات کی ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ مرکزی میڈیا اور سوشل میڈیا اور اس کی ایپلی کیشنز کے ذریعے پھیلنے والی فحاشی کی روک تھام کیلئے جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کہتے ہیں کہ عریانیت کی وجہ سے بچوں اور خواتین کے ریپ کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشرے میں بڑھتی عریانیت اور فحاشی پر متعلقہ حکام کو اس کی روک تھام کیلئے ہدایت کی ہے کیونکہ ایسا نہ ہوا تو اس کے نتیجے میں پاکستانی معاشرے کی سماجی و مذہبی اقدار تباہ ہو جائیں گی۔

وزیراعظم نے کہا ہے کہ ٹِک ٹاک جیسی ایپس معاشرے کی اقدار کو زبردست نقصان پہنچا رہی ہیں لہٰذا انہیں بلاک کرنا چاہئے۔ شبلی فراز کے مطابق انہوں نے وزیراعظم کو بتایا کہ سب سے پہلے ان ایپس سے رابطہ کیا جائے گا تاکہ وہ معاشرے کی اقدار کا احترام کریں۔

وزیر اطلا عات نے فحاشی کی روک تھام کیلئے ہر ممکن اقدام کیلئے یقین دہانی کرائی۔ جب وزیر موصوف کی توجہ پی ٹی وی پر دکھائے جانے والے متنازع مواد کی طرف مبذول کرائی گئی، جسے سوشل میڈیا میں بھی نمایاں کیا گیا تھا، تو شبلی فراز کا کہنا تھا کہ وہ جلد پی ٹی وی کے مینیجنگ ڈائریکٹر سے ملاقات کر کے اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ایسا کوئی مواد نشر نہ ہو جو اسلامی اقدار کے منافی ہو۔

شبلی فراز نے یقین دہانی کرائی کہ جو بات میں اپنی بیٹی کیلئے پسند نہیں کرتا وہ میں کسی اور کی بہن بیٹی کیلئے بھی پسند نہیں کروں گا، سرکاری ٹی وی کو نجی چینلوں کیلئے ایک مثالی نمونہ ہونا چاہئے۔

وزیراعظم عمران خان نے اپنے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ سے بھی کہا ہے کہ پاکستانی ڈراموں اور فلموں کو غیر اخلاقی اور فحش مواد سے پاک کرنے کیلئے جامع حکمت عملی لائی جائے۔

اس سے پہلے بھی ٹک ٹاک کو حکومت کی جانب سے خبردار کیا جا چکا ہے

  • پابندی کی بجاے غلط حرکتوں پر سزا ملے تو زیادہ بہتر ہو گا۔
    ٹول کو استیمال کرنا سیکھائیں تو سب کا فائدہ ہو گا۔
    نا کہ پابندی۔

    ُ

  • Mariya Mirza So narrative of Ansar Abbasi wins . If our PM and his info minister can’t see men and women doing excercise togather , then he must not also see both doing acting togather , doing a dance performance togather , doing wsome training togather , male and female getting education togather … we are back to Zia era .. Saudies are changing but we will go bakward … seems only our PM have lived abroad and he only have learned what’s worst there … and Cant he see the stars that such apps are creating … like mullah this govt is also seeing fahashi everywhere …


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >