کیا وزیراعظم نےکابینہ ارکان پر فوجی افسران سے ملاقات کرنے پر پابندی لگا دی ہے؟

میڈیا پر خبریں گردش کر رہی ہیں کہ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ ارکان اور بیورو کریٹس پر عسکری اداروں اور افسران کے ساتھ براہ راست ملاقات پر پابندی لگا دی۔

خبر رساں اداروں کے زرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کابینہ ارکان اور بیوروکریٹس کی براہ راست عسکری اداروں اور افسران کے ساتھ ملاقاتوں پر نوٹس لیتے ہوئے کابینہ اراکین اور بیوروکریٹس پر براہ راست عسکری اداروں اور افسران کے ساتھ ملاقات اور بریفنگز پر پابندی عائد کر دی ہے۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے جی ایچ کیو، نیول ہیڈ کوارٹرز اور ایئر فورس ہیڈ کوارٹرز سمیت اہم اداروں کے افسران کے ساتھ براہ راست رابطوں کو رولز آف بزنس کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

خبر رساں ذرائع کے مطابق وزیراعظم کو کابینہ ارکان اور بیوروکریٹس کی عسکری اداروں اور افسران کے ساتھ براہ راست ملاقاتوں اور بریفنگ کے حوالے سے رپورٹس موصول ہو رہی تھیں، رپورٹ کے مطابق وزراء اور بیوروکریٹس کا اقدام 1973 کے رولز آف بزنس کے منافی ہے، وزراء اور بیوروکریٹس کی براہ راست ملاقاتیں آئین کے سیکشن 8 اور 56 کے منافی ہیں۔

کابینہ ڈویژن کی جانب سے کابینہ ارکان اور بیوروکریٹس کو عسکری اداروں اور افسران کے ساتھ ملاقات کی پابندی کے احکامات ارسال کردیئے گئے ہیں، جی ایچ کیو، نیوی اور ائیر فورس کے اعلی افسران کے ساتھ ملاقات اور خط و کتابت کے لیے وزارت دفاع سے رجوع کیا جائے گا۔

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے یہ ہدایت بھی کی گئی ہے کہ وزارت دفاع  رولز آف بزنس کے مطابق متعلقہ وزراء اور بیوروکریٹس کی ملاقاتوں اور بریفنگز کا انعقاد کروائے گی، وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کسی بھی قسم کی ملاقات پر پابندی عائد کی گئی ہے، وزیراعظم کی اجازت کے بعد وزارت دفاع مطلوبہ وزارتوں اور ادارے کو احکامات جاری کرے گی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سابق وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے اپنی پارٹی کے تمام اراکین پر عسکری اداروں اور اعلی افسران کے ساتھ کسی بھی قسم کی ملاقات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

جب کی دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے ان خبروں کی سکتی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ”یہ بالکل جھوٹی خبر ہے۔ وزیراعظم یا ان کے دفتر سے ایسا کوئی نوٹس یا ڈائیریکشن نہیں دی گئی ہے۔ یہ ایک روٹین سرکاری خط و کتابت ہے جس میں ڈیفنس ڈویژن نے باقی محکموں کو ان سے correspondence کے لیے چند رولز واضح کئیے ہیں۔ سمجھ سے باہر ہے کہ اس خبر کو رائی کا پہاڑ کیوں بنایا گیا ہے۔”

صحافی سہیل اقبال بھٹی نے شہباز گل کے دعوے کے جواب میں لکھا کہ "گل صاحب، ایک جانب آپ تسلیم کررہے ہیں کہ وزارت دفاع نے correspondence کیلئے رولز واضح کئے مگر یہ نہیں بتارہے کہ 21ستمبر کو کابینہ ڈویژن نے مراسلہ جاری کرکے تمام وزارتوں پر پابندی عائد کی۔اسکی ضرورت کیوں پیش آئی اور دوسالوں میں کتنی مرتبہ یہ روٹین ورک کیا گیا؟۔ریکارڈ ضرور چیک کریں”

شہباز گل نے سرکاری طور پر جاری کیے گئے لیٹرز شیئر کرتے ہوئے  صحافی کو مخاطب کر کے کہا کہ”یہ ہیں وہ دونوں لیٹر جن پر بیس کر کے آپ نے یہ جھوٹی فیبریکیٹڈ سٹوری پلانٹ کی۔یہ خط کوئی بھی پڑھ کر مجھے بتا دے کہ کہاں پر وزیراعظم نے ایسا کوئی نوٹس یا ڈائیریکشن کی ہے؟وزیراعظم کا جھوٹا حوالہ دینے سے پہلے آپ نے وزیراعظم دفتر سے مجھے سے یا شبلی صاحب سے رابطہ کیا موقف لینے کے لیے؟ ”

 

 


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >