افغانستان سے تجارت کرنے والوں کیلئے وزیراعظم کا بارڈر مارکیٹس کھولنے کا اعلان

افغانستان سے تجارت کرنے والوں کیلئے وزیراعظم کا بارڈر مارکیٹس کھولنے کا اعلان

مہمند میں وزیراعظم عمران‌ خان نے قبائلی عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا حکومت کی پالیسی سے قبائلی عمائدین کو آگاہ کرنا چاہتا ہوں، انہوں نے کہا کہ نظریہ حکومت کا روڈ میپ ہوتا ہے ، مدینہ کی ریاست جن اصولوں پر کھڑی تھی وہی ہمارا نظریہ ہے، کمزور طبقے کو اوپرلانا ریاست کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

نظریہ اور پالیسی سازی حکومت کی سمت کا تعین کرتی ہے ، ملک میں ترقی ہوتی ہے تو وہ سب کو اوپر اٹھانے کیلئے ہونی چاہیے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ ایک علاقہ اٹھ جائے اور باقی پیچھے رہ جائیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ ڈی جی خان، میانوالی اور اندرون سندھ کےعلاقے پیچھے رہ گئے۔ پیچھے رہ جانیوالے والوں میں قبائلی علاقے سب سے نمایاں ہیں، ماضی میں قبائلی علاقے کے ووٹ سے کوئی اقتدار میں نہیں آتا تھا، جو پارٹی اندرون سندھ سے آتی ہے وہ کراچی کیلئے کچھ نہیں کرتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پوری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ فنڈ قبائلی علاقوں پر خرچ کریں، صوبوں نے وعدہ کیا تھا کہ 3فیصد این ایف سی ایوارڈ قبائلی علاقوں کو دیں گے ، افسوس ہے ہمیں حکومت ملی تو صوبوں کو اپنا وعدہ یاد نہیں ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ کے پی نے قبائلی علاقوں کو اپنا شیئر دے دیا،باقی کہتے ہیں برے حالات ہیں، وسطی پنجاب سے ن لیگ آئی اس نے جنوبی پنجاب پر توجہ نہیں دی، میری پوری کوشش ہے قبائلی علاقوں اور بلوچستان کو پورا فنڈ ملے، قبائلی علاقوں کیلئے فنڈز کی فراہمی کیلئے پورا زور لگا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ جو عناصر کے پی اور قبائلی علاقوں کا انضمام نہیں چاہتے وہ افراتفری پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، کےپی اور قبائلی علاقوں کا انضمام روکنے کیلئے رکاوٹیں ڈالی جارہی ہیں ، اسمگلنگ پاکستان کو تباہ کررہی ہے، صنعتیں آگے نہیں بڑھ رہیں۔ بارڈر مارکیٹس کھولنے کی تیاری کررہےہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان سے تجارت کرنیوالوں کیلئے بارڈرمارکیٹس کھول رہے ہیں، افغان حکومت اور طالبان میں امن مذاکرات کی کامیابی کیلئے دعاگو ہیں، ایسے عناصر موجود ہیں جو نہیں چاہتے افغانستان میں امن ہو۔ افغانستان میں امن سے قبائلی علاقوں میں بڑی تبدیلی آئے گی ، تجارت کے راستے کھلیں گے، افغان امن عمل کامیاب ہوا تو خطے میں خوشحالی اور ترقی آئے گی۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >