ڈینئل پرل کیس: ملزمان کی رہائی کے خلاف اپیلیں سماعت کیلئے منظور، رہائی مؤخر

سپریم کورٹ میں پیر کے روز ڈینئل پرل کیس کی سماعت ہوئی، سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی مرکزی ملزم عمر شیخ کی بریت کے خلاف اپیلیں سماعت کے لیے منظور کر لیں۔

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کے وکیل فاروق نائیک نے مرکزی ملزم عمر شیخ سمیت دیگر ملزمان کی رہائی کی مخالفت کرتے ہوئے سماعت کے دوران عدالت کو بتایا کہ عمر شیخ نے عدالت میں خود کلامی کے انداز جرم کا اعتراف کرلیا ہے، فاروق نائیک نے رومیو جیولٹ افسانے کا حوالہ دیا تو جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیئے کہ قتل کیس کے فیصلے کسی رومانی افسانے کی بنیاد پر نہیں ہوتے،ملزمان کی بریت کا فیصلہ صرف مفروضوں پر کالعدم نہیں ہوتا۔

سماعت کے دوران جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ واقعاتی شواہد کے لیے بھی تمام کڑیوں کا آپس میں ملنا لازمی ہے،مرکزی ملزم عمر شیخ کو کس نے دیکھا اور پہچانا،مقتول کی لاش بھی نہیں ملی تو ٹیکسی ڈرائیور نے اُسے کیسے پہچان لیا؟ جس پر فاروق نائیک کا کہنا تھا کہ ٹیکسی ڈرائیور نے ڈینئل پرل کو تصاویر اور ملزم کو شناخت پریڈ میں پہچانا ہے۔

فاروق نائیک نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کے 23 گواہ ہیں، جن میں سے ایک گواہ نے راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں قاتل اور مقتول کی ملاقات کروانے کا اعتراف کیا ہے جس کی ہوٹل کے ریسپشنسٹ نے بھی تصدیق کی ہے، جسٹس یحیی آفریدی نے نےاستفسارکیا کہ ڈینئل پرل کے قتل کی ویڈیو بطورثبوت کہاں سےآئی؟ جس پر سندھ حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ویڈیو ایف بی آئی ایجنٹ نے تفتیشی حکام کو پیش کی۔

سندھ حکومت کو عمر شیخ کی سات سال سزا کے خلاف اپیل کرنے پر نوٹس جاری کردیا گیا ہے، عدالت نے کراچی میں اغوا کے بعد قتل ہونے والے صحافی ڈینئل پرل کے والدین کو مقدمے میں فریق بننے کی اجازت دے دی ہے اور کیس کی مزید سماعت بدھ تک کے لئے ملتوی کردی گئی ہے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>