سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں بھی سی سی پی او لاہور نے ہاتھ جوڑ دیے

سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا جہاں سی سی پی او لاہور کو طلب کیا گیا تھا۔ سی سی پی او عمر شیخ نے کمیٹی میں پیش ہو کر موٹروے زیادتی کیس کی تحقیقات میں ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ہماری بچیوں اور بیٹیوں کی اس طرح بے حرمتی نہیں ہونی چاہیے، یہ واقعہ ہماری حدود میں ہوا اس لیے ہم ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کیس کا مرکزی ملزم بابر مفرور ہے جس پر رکن کمیٹی عینی مری نے کہا کہ مرکزی ملزم عابد ہے یا بابر آپ تحقیقات کر رہے ہیں لیکن مرکزی ملزم کا نام معلوم نہیں۔

ارکان کمیٹی کی سرزنش پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے ہاتھ جوڑ لیے اور کہا کہ ایک ساتھ کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس بلا لیں تاکہ وہ ایک ہی بار سب ارکان سے معافی مانگ لیں۔

سی سی پی او لاہور کا کہنا تھا کہ 2 بج کر 47 منٹ پر 15 پر کال کی گئی، پولیس ٹیم 28 منٹ میں وہاں پہنچی۔ اس دوران ارکانِ کمیٹی بولے کہ پولیس کے بیان میں تضاد ہے، گزشتہ اجلاس میں بتایا گیا تھا کہ پولیس 6 منٹ میں پہنچی جبکہ آپ کہہ رہے ہیں پولیس 28 منٹ میں پہنچی۔

اس پر سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے کہا کہ 6 منٹ میں امریکا کی پولیس بھی جائے وقوعہ پر نہیں پہنچ سکتی ہم کیسے پہنچ سکتے ہیں۔

  • اوہو بس کرو اور اب چھوڑ بھی دو عمر شیخ کو
    اسے اپنا کام کرنے دو…کتنی بار تو معافی مانگچکا ہے ناک سے لکیریں نکلواؤ گے کیا

  • یہ جان بوجھ کر سی سی پی او کو انڈر ریشر رکھنے کے لئے
    اور اپنے کام سے روکنے کے لئے پارلیمانی کمیٹیوں میں خراب کر
    رھے ہیں


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >