شریف خاندان کی فوج کے ساتھ لڑائی اور پوائنٹ آف نو ریٹرن تک جانےکی وجہ کیا ہے؟

باجوہ بمقابلہ شریف، ڈیل کس نے توڑی؟ فضل الرحمن کی دھمکیاں اور دو اہم خطوط کی جانئیے اندرونی کہانی روف کلاسرا کی زبانی۔

رؤف کلاسرا کے مطابق مریم نواز صاحبہ کی پریس کانفرنس کے بعد شریف فیملی پوائنٹ آف نو ریٹرن تک چلی گئی ہے، کیونکہ ماضی میں شریف فیملی خود نہیں بلکہ کسی اور کے ذریعے عسکری قیادت کے ساتھ معاملات طے کیا کرتی تھی۔

جس طرح کی ٹون آج کل مریم نواز اور ان کے والد نواز شریف کی ہے ویسے ہی ٹون ان کی جنرل پرویز مشرف کے دور کے آخری دنوں میں نظر آئی تھی، کیونکہ تب امریکا بھی چاہتا تھا کہ جنرل پرویز مشرف اپنی وردی چھوڑ کر بے نظیر بھٹو کے ساتھ سول حکومت قائم کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی پولٹیکل لیڈر کو یہ معلوم ہو جائے کہ ان کو اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ مل جائے گی تو پاکستانی ووٹرز کی بہت بڑی تعداد اسی پارٹی کے ساتھ ہو جاتی ہے، کیونکہ عوام کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو پارٹی اس وقت پاور میں آرہی ہے وہ انہیں کیسے اقتدار میں آنے سے روک سکتے ہیں، لہذا پاکستانی عوام اسی کو ووٹ دیتی ہے جس کو اسٹیبلشمنٹ سپورٹ کر رہی ہوتی ہے۔

رؤف کلاسرا کے مطابق پچھلے کچھ دنوں سے نواز شریف اور مریم نواز کی گفتگو میں عسکری اداروں کے خلاف بہت ہی سخت لہجہ استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے اے پی سی سے 8 ماہ پہلے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کے حق میں ووٹ ڈالے تھے ۔

جس پر ن لیگ کے اپنے ورکرز نے بہت ہی سخت ردعمل دیا تھا۔ لیکن شدید ردعمل کے باوجود مریم نواز اور نواز شریف دونوں چپ رہے، تاہم دونوں کے حامیوں کو یہ ضرور محسوس ہو رہا تھا کہ کہیں نہ کہیں کچھ لین دین کا معاملہ چل رہا ہے۔

رؤف کلاسرا کا اپنے وی لاگ میں کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو ان کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے ووٹ دینے کے بدلے ڈیل کر کے نیب کے کیسز میں رعائتیں لیں، جس میں ان کے خلاف نیب کی جانب سے بنائے گئے کیسز بھی شامل ہیں، تاہم اس کے علاوہ جنرل باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے ووٹ ڈالنے کی کوئی ٹھوس وجہ سامنے نہیں آئی۔

انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف لندن چلے گئے اور حکومت نے مریم نواز کو لندن جانے سے روک لیا تو اصل لڑائی  یہاں سے شروع ہوئی، کیونکہ عمران خان کا کہنا تھا کہ اگر مریم نواز کو لندن جانے کی اجازت دے دی گئی تو ان کا بیانیہ ختم ہو جائے گا جس کے بل بوتے پر ووٹ لے کر اقتدار میں آئے ہیں۔

نواز شریف نے آخری کوشش کے طور پر محمد زبیر کو آرمی چیف کے پاس مریم نواز کے لئے رعائت لینے کے لیے بھیجا لیکن آرمی چیف نے رعائت دینے سے صاف انکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جمیعت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی جانب سے بھی اب عسکری قیادت اور اداروں سمیت صحافتی اداروں کو بھی دھمکیاں دی گئی ہیں کہ میرے بارے میں اگر کسی نے کچھ کہا تو میں اس کا حشر نشر کر دوں گا، کیوں کہ مولانا فضل الرحمان کے پاس اس وقت سٹریٹ پاور موجود ہے جس کے سر پر وہ دھرنے کے حق میں ہیں۔

  • What happen when Maryam will be arrest she is bhagori I remember she got mentally issue when she was behind the bar…inki sari badmashi khatm hojani hai kyun k inke pas Farooq sattar jesi camera k agy hath hilany wali taqat hai fazlu madrasa k nacho ko bahir lata fazlu ko pakar lo Inka byana thatp hojana


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >