کئی منتخب لیگی نمائندے اب جماعت کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں،جلیل شرقپوری

کئی منتخب لیگی نمائندے اب جماعت کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں ہیں،جلیل شرقپوری

نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جلیل شرقپوی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات حلقے کے مسائل حل کرنے کے لیے کی تو اس میں کون سی غلط بات ہے، یہ کسی دستور میں نہیں لکھا کہ رکن اسمبلی مخالف جماعت کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات نہ کرے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے عثمان بزدار سے ملاقات کی تو لیگی قیادت غصے میں آگئی، یہ بات میری سمجھ سے بالاتر ہے کہ حلقے کے مسائل کو حل کرانے کے لیے کی جانے والی ملاقات پر غصہ دکھانے کی کیا ضرورت ہے۔

بعض ارکان پنجاب اسمبلی کہتے ہیں کہ اب جماعت کے ساتھ نہیں چل سکتے،میں نے تقریر کی مخالفت کر کے اپنے ضمیر کی بات کی جو احسن اقبال کو پسند نہیں آئی۔

جلیل شرقپوری کا یہ بھی کہنا تھا کہ مریم نوازکا بھی کچھ غصے والا انداز ہے جو اگر برقرار رہا تو اچھا نہیں ہوگا، اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرانے کی سوچ ملک کے مستقبل کیلئے اچھی نہیں ہے، ن لیگ میں بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں وہ پارٹی کیساتھ نہیں چل سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ مریم نواز کا انداز بھی قومی مفاد کے خلاف ہے، مسلم لیگ ن کی قیادت کو اداروں سے ٹکراؤ کی پالیسی ترک کرنا ہوگی اور اس بارے میں سوچنا بھی ہوگا کیونکہ یہ نہیں چل سکتی۔

یاد رہے کہ جلیل شرقپوری حال ہی میں وزیراعلیٰ پنجاب سے ملاقات کرنے والے لیگی ارکان اسمبلی میں شامل تھے۔ ن لیگ کی پالیسی سے مخالفت کرنے والے منحرف ارکان اسمبلی وزیراعلیٰ عثمان بزدار سے بیشتر ملاقاتیں کر چکے ہیں۔


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >