شہباز شریف خاندان نے کس طرح اپنے ملازمین کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی؟

شہباز شریف خاندان نے کس طرح اپنے ملازمین کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی؟

شریف خاندان نے کس طرح اپنے ملازمین کے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کی؟ شریف خاندان کے ملازمین کے حیرت انگیز انکشافات

اینکر پرسن اور تجزیہ نگار ارشد شریف کی جانب سے شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کے حوالے سے اہم انکشافات سامنے لائے گئے ہیں، انہوں نے بتایا کہ کس طرح سے شریف خاندان اپنے ملازمین کے اکاؤنٹ  استعمال کرکے اپنے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرتا رہا ہے۔ تاہم نیب کی زیر حراست شریف خاندان کے ملازمین کی جانب سے بھی حیرت انگیز انکشافات کیے گئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نیب کی جانب سے چوہدری شوگر ملز کیس کی تحقیقات کے دوران شہباز شریف کی منی لانڈرنگ کا ایک نیٹ ورک پکڑنے اور اس میں ملوث کچھ اہم کرداروں کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس کے مبینہ طور پر سرغنہ شہباز شریف کے صاحبزادے سلمان شہباز ہیں جو اس وقت نیب کی تحقیقات کی وجہ سے لندن مفرور ہیں۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نیب نے اپنی تحقیقات کے دوران شہباز شریف کی 6 جعلی فرنٹ کمپنیاں پکڑی ہیں، نیب کے مطابق یہ چھ کمپنیاں صرف کاغذی طور پر موجود تھیں جب کے کوئی کام نہیں کرتی تھیں، ان کا کام صرف کک بیکس اور کمیشن کا پیسہ ادھر ادھر کرنا اور پیسے کو مختلف اکاؤنٹس میں ٹرانسفر کرکے بالآخر شریف خاندان کے افراد کے اکاؤنٹس میں وائٹ کرکے پہنچانا تھا۔

نیب ذرائع کے مطابق ان چھ جعلی کمپنیوں میں سے صرف گڈ نائٹ جنرل ٹریڈنگ کمپنی میں سات ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہو چکی ہیں، نیب کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان جعلی کمپنیوں سے جڑے اشخاص وہ ہیں جن کا براہ راست تعلق شہباز شریف یا ان کے خاندان کے دیگر افراد سے ہے، پانچ ایسے افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جن کا براہ راست تعلق  شہباز شریف سے ثابت ہوتا ہے۔

نیب کی جانب سے گرفتار کیے گئے افراد میں سے ایک صاحب کا نام نثار گل ہے جن کو شہباز شریف نے 2009 میں اپنا پولیٹیکل ایڈوائزر اور سیکریٹری مقرر کیا، جس کا نوٹیفکیشن بھی موجود ہے، بینک کےاکاونٹ اوپننگ  فارم میں بھی نثار گل نے اپنا تعلق شہباز شریف کے مشیر سے ظاہر کیا، اور پتہ چیف منسٹر ہاؤس لکھا، نیب کے مطابق وہ سلمان شہباز کا بی اے کے کلاس فیلو ہے اور جو سلمان شہباز نے انہیں کہا انہوں نے کیا۔

رپورٹ کے مطابق نیچرل گڈز ٹریڈنگ کمپنی کے مالک سلیمان شہباز اور شہباز شریف کے مشیر نثار گل نے ایک ساتھ کم از کم چار بیرون ملک دورے کیے اور واپسی بھی ایک ساتھ ہوئی، 21 مارچ 2016 کو دونوں دوست متحدہ عرب امارات گئے اور 28 مارچ 2016 کو واپس آئے، 23 مارچ 2017 کو دونوں نے ایک بار پھر متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، 15 مئی 2018 کو دونوں نے قطر کا دورہ کیا اور واپسی 16 مئی کو ہوئی، اسی طرح 26 ستمبر 2018 کو سعودی عرب کا دورہ کیا اور واپسی یکم اکتوبر 2018 کو ہوئی۔

شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کا دوسرا کردار علی احمد خان ہے، یہ بھی سلمان شہباز کا ذاتی دوست اور کلاس فیلو رہ چکا ہے، علی احمد کو بھی چیف منسٹر ہاوس میں بھی سرکاری نوکری پر فائز کر رکھا تھا، علی احمد شہباز شریف کی دو جعلی کمپنیوں کا مالک اور فرنٹ مین بھی تھا، نیب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ علی احمد شریف خاندان کے کالے دھن کو سفید کر کے شریف خاندان کے اکاؤنٹ میں پہنچاتا تھا، اس وقت علی احمد مفرور ہےجس کی نیب کو تلاش ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق نیب کو منی لانڈرنگ کے اہم کردار طاہر نقوی کی بھی تلاش ہے جن سے سلمان شہباز کی لاہور کے مقبول جم میں ملاقات ہوئی، جہاں وہ سلمان شہباز کو ٹریننگ کرواتے تھے لیکن بعد میں دونوں کی دوستی ہو گئی، طاہر نقوی نے وقار ٹریڈنگ کمپنی بنائی، اور شہباز گروپ کے ساتھ کاروبار کرنے لگے، نیب کے دعوے کے مطابق طاہر نقوی سلمان شہباز کا صرف فرنٹ مین ہے اور کچھ نہیں، جو اس وقت بیرون ملک مفرور ہے۔

نیب ذرائع کے مطابق شریف خاندان کی منی لانڈرنگ کے اہم کردار شعیب قمر کی جانب سے حیرت انگیز انکشافات کرتے ہوئے نیب کو بتایا گیا ہے کہ کک بیکس کی ساری رقم کیش کی صورت میں 96 ایچ ماڈل ٹاؤن جو شہباز شریف کی رہائش گاہ اور ان کی اہلیہ تہمینہ درانی کے نام پر ہے میں پہنچائی جاتی تھی۔

شعیب قمر کے مطابق رقم بوریوں میں بھر کر 96 ایچ میں رکھی جاتی تھی، وہاں سے یہ رقم طاہر نقوی لے کر شریف گروپ کے ہیڈ آفس 55 کے میں پہنچاتا تھا، رقم زیادہ ہونے پر شہباز شریف کی ذاتی لینڈکروزر استعمال کی جاتی تھیں تاہم کم رقم ہونے پر طاہر نقوی کی ہونڈا سیویک گاڑی استعمال کی جاتی تھی جس کے ساتھ پولیس کے ایلیٹ کمانڈو بھی ہوتے تھے۔

شریف خاندان کے ہیڈ آفس 55 کے میں پہنچائی گئی رقم فضل داد کے حوالے کی جاتی تھیں جو انہیں لاکرز میں رکھتا تھا اور وہاں موجود مینیجر فنانس توقیر سرور ڈار ان کی انٹری کرتا تھا، فضل داد عباسی شریف خاندان کا دہائیوں پرانا ملازم ہے، جو اس وقت نیب کی حراست میں ہے، 55 کے کے چیف فنانشل ایڈوائزر کہ کہنے پر یہ رقم مختلف اکاؤنٹس میں ڈالی جاتی تھی اور اسے فیڈ اور چینی کا پیسہ قرار دیا جاتا تھا۔

  • Suleman shehbaz everything surrounding around him this is why he run away during process of initiative case…. Sacks bhary jaty thy aur shehbaz ki cm ki gari Mai muntakil Kiya jaty thy in special protocol kharamkhoor sala

  • ریاست کو ریاست بچانے کے لیئے اس حرام خور خاندان کو عبرت کا نشان بنانا ہوگا ورنہ یہ ملک بنانا اسٹیٹ بن جائے گا
    اس خاندان کی نسلوں کو بھی سیاست سے دور رکھا جائے کیونکہ اس خاندان کی نسلوں میں حرام کا تخم گھسا ہؤا ھے اور جو کہ ایک ناسور بن چکا ھے


  • Featured Content⭐


    24 گھنٹوں کے دوران 🔥


    From Our Blogs in last 24 hours 🔥


    >