آصف زرداری ن لیگ اور نواز شریف پر اعتبار کرنے کیلئے کیوں تیار نہیں ہیں؟

صحافی اور ویڈیو بلاگر صدیق جان نے کہا ہے کہ ن لیگ کے سینئر ترین رہنما اور نواز شریف کے درمیان آج کل فاصلے بڑھ رہے ہیں ، اس کی وجہ نواز شریف کا بیانیہ اور پیپلزپارٹی سے قربت ہے۔

صدیق جان نے کہا کہ خواجہ آصف نے سابق صدر آصف علی زرداری سے متعلق گزشتہ روز ایک بیان دیا جس کے اثر کو زائل کرنے کیلئے نواز شریف نے لندن سے آصف علی زرداری کیلئے تعریفی کلمات کہتے ہوئے بیان جاری کیا کہ وہ ایک اچھے انسان ہیں۔

صدیق جان نے کہا کہ اس واقعے کے بعد سے نواز شریف اور خواجہ آصف میں فاصلے بڑھ گئے ہیں جس کی مثال نواز شریف کی گزشتہ روز کی تقریر میں ملتی ہے جس میں نواز شریف نے خواجہ آصف کا نام بھی نہیں لیا تھا، کل تک خود پیپلزپارٹی ، ذوالفقار علی بھٹو، بینظیر، زرداری اور بلاول کو برا بھلا کہنے والے نواز شریف آج ان کی غلامی کررہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ شہباز شریف کیمپ کے پارٹی رہنما پیپلزپارٹی اور آصف علی زردار ی کے ساتھ اتحاد کرکے تحریک چلانے پر قائل نہیں ہیں ، دوسری جانب آصف علی زرداری بھی ن لیگ پر بھروسہ کرنے کو تیار نہیں ہے، ان کا ماننا ہے کہ اگر انہوں نے ن لیگ کو مضبوط کیا تو وہ پلٹ کر ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپے گی اور جاکر اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کرلے گی۔

صدیق جان کے مطابق نواز شریف کو اس راستے پر ڈال کر آصف علی زرداری بہت خوش اور مطمئن ہیں کیونکہ نواز شریف کی ریاستی اداروں کی اس لڑائی میں پیپلزپارٹی کیلئے کافی جگہ کھل جائے گی، اس کے علاوہ ان جماعتو ں میں اختلافا ت کی وجہ سے اب تک پی ڈی ایم کی باقاعدہ عہدہ سازی بھی نہیں ہوسکی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگ مولانا فضل الرحمان کی قیادت پر قائل ہے جبکہ پیپلزپارٹی میں اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں، مولانا فضل الرحمان مذہب کی بنیاد پر شخصی قوت کو اکھٹا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں جو ان دونوں پارٹیوں کے بس کی بات نہیں ہے۔

اسی لیے پیپلزپارٹی کے کچھ حلقے یہ مانتے ہیں کہ ن لیگ کی مزاحمت کی سیاست او ر مولانا کو آگے کرکے ان دونوں کو سیاست سے باہر نکال کر پیپلزپارٹی پاکستانی سیاست میں اپنا مقام بنانے کی پوزیشن میں آجائے گی۔

صدیق جان نے کہا کہ نواز شریف نے کہا ہے انہوں نے عزت سے جینے کا فیصلہ کیا ہے اس کا مطلب وہ پہلے عزت کی زندگی نہیں گزار رہے تھے ان کی اس بات کے بعد میرا خیال تھا وہ یہ اعلان کریں گے کہ میں غیروں کے ملک میں رہنے کے بجائے اپنے ملک آرہا ہوں تاکہ میں عزت سے رہ سکوں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک واقعہ سناتا ہوں شفیق لغاری ایک ہمارے دوست تھے ہمارے ایک اور کولیگ نے نئی گاڑی لی ہم رات میں سب اس گاڑی میں چائے پینے جارہے تھے گاڑی میں کسی بات پر بحث ہوئی تو لغاری صاحب نے گاڑی رکوائی اور وہیں پر اتر گئے اور اس کے بعد انہوں نے کہا کہ شفیق لغاری اپنے پیروں پر بیٹھ کر دوزخ میں چلا جائے گا اس گاڑی میں بیٹھ کر جنت میں نہیں جائے گا۔

تو نواز شریف کو بھی پیروں پر چل کر کوٹ لکھپت جیل آنا چاہیے نا کہ وہ لندن میں غیروں کی بے ساکھیوں کا سہارا لے کر انگریزوں کی غلامی سے نکلیں گے۔


Featured Content⭐


24 گھنٹوں کے دوران 🔥


From Our Blogs in last 24 hours 🔥


>